جب وکیل بارہ بجے آیاؔ اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ تم پرند نہیں ہو کہ اُڑ کر امرتسر گئے تھے کوئی اور آدمی بھی تمہارے ساتھ ہوگا۔ اور تب عبد الرحیم وغیرہ نے مجھے قطب الدین کی شمولیت کی بابت کہا تھا۔ نوٹ وکیل استغاثہ نے تسلیم کیا کہ ہم نے دُوسرے آدمی کی شمولیت کی بابت گواہ سے شام کے وقت بھی پوچھا تھا۔‘‘ شام کے وقت پھر وکیل نے پوچھا تھا اور مَیں نے حسب گفتہ عبد الرحیم وغیرہ قطب الدین کا نام بتلایا تھا۔ وکیل نے مجھے کہا تھا کہ عدالت اِس بات کو نہیں مانے گی کہ تو اکیلا مار کر چلا گیا یا چلا جاوے گا۔ کسی اور آدمی کی شمولیت ضرور ہوگی۔ تب بارہ بجے کے بعد حسب سکھلاوٹ قطب الدین کا نام بیان کیا تھا۔ مسجد کے ساتھ ایک کمرہ ہے جس کی بابت مَیں نے ذکر کیا تھا۔ پہاڑ کی طرف ہے۔ معلوم نہیں اُس کا دروازہ کدھر کو ہے۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ قطب الدین کا رنگ و حُلیہ کیا ہے۔ اورنہ کسی نے مجھے بتلایا تھا۔ نہ اب تک میں اُس کے حلیہ وغیرہ سے آگاہ یاواقف ہؤا ہوں۔ (بسوال عدالت) پیشی عدالت سے پہلے بارہ بجے دن کے وقت وکیل رام بھج میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ تم پرند نہیں ہو کہ مار کر اُڑ جاتے۔ اِس کے بعد وارث دین وغیرہ نے مجھے قطب دین کا نام بتلایا اور جب شام کو وکیل نے پھر مجھ سے ذکر کیا تو قطب الدین کا نام مَیں نے بتلایا تھا اور میری ہتھیلی پر دوسری
صلیب کے نتیجہ سے بچا لیا جائے۔ اور وہ روحانی رفع پر موقوف تھا ۔ اور روحانی رفع اسی غرض سے تھا کہ تا یہ دکھلایاؔ جائے کہ وہ *** کے داغ سے پاک ہے مگر توریت کے منشاء کے موافق *** کے داغ سے وہ پاک ہو سکتاہے جس کی روح خدا کی طرف اٹھائی جائے نہ کہ جسم آسمان کی طرف جائے ۔عیسائی اس بات کو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح بقول ان کے صلیبی موت سے اس الزام کے نیچے آگئے تھے کہ وہ *** ہوں اور اس *** سے مراد ابدی *** تھی ۔ پھر اس عقیدہ کے موافق اول اعتراض تو یہی ہوتا تھا کہ وہ ابدی *** یعنی یہ کہ رحمتِ الہٰی سے مردود ہوجانا اور خدا کا دشمن ہوجانا اور خدا سے بیزار ہوجانا اور شیطان سیرت ہو جانا