جاکر غار ثور میں چھپ گئے تب دشمنوں نے تعاقب کیا اور غارثور تک سراغ پہنچا دیا۔ اور سراغ چلانے والے نے اس بات پر زور دیا کہ یقیناً وہ اسی غار کے اندر ہیں یا یوں کہو کہ اس سے آگے آسمان پر چلے گئے کیونکہ سراغ آگے نہیں چلتا۔ مگر چند مکہ کے رئیسوں نے کہا کہ اس بڈھے کی عقل ماری گئی ہے غار پر تو کبوتری کا آشیانہ ہے اورایک درخت ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے لہٰذا کسی طرح ممکن نہیں کہ کوئی غار کے اندر جا سکے اور آشیانہ سلامت رہے اور درخت کاٹا نہ جائے اور ان میں سے کوئی شخص درخت اور آشیانہ کو ہٹا کر اندر نہ جا سکا کیونکہ لوگوں نے بارہا دیکھا تھا کہ کئی دفعہ بہت سے سانپ غار کے اندر سے نکلتے اور اندر جاتے ہیں اس لئے وہ سانپوں کی غار مشہور تھی سو موت کے غم نے سب کو پکڑا اور کوئی جرأت نہ کر سکا کہ اندر جائے۔ یہ خدا کا فعل ہے کہ سانپ جو انسان کا دشمن ہے اپنے حبیب کی حفاظت کے لئے اس سے کام لے لیا اور جنگلی کبوتری کے آشیانہ سے لوگوں کو تسلی دی۔ یہ کبوتری نوح کی کبوتری سے مشابہ تھی جس نے آسمانی سلطنت کے مقدس خلیفہ اور تمام برکتوں کے سرچشمہ کی حمایت کی۔ پس یہ تمام باتیں غور کے لائق ہیں کہ کس طرح خداتعالیٰ نے اپنے پیارے رسولوں کو دشمنوں کے بد ارادوں سے بچالیا۔ اس کی حکمتوں اور قدرتوں پر قربان ہونا چاہیے کہؔ شریر انسان اس کے راستباز بندوں کے ہلاک کرنے کے لئے کیا کچھ سوچتا ہے اور در پردہ کیسے کیسے منصوبے باندھے جاتے ہیں اور پھر انجام کار خداتعالیٰ کچھ ایسا کرشمہ قدرت دکھلاتا ہے کہ مکر کرنے والوں کا مکر انہی پر اٹھا کر مارتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک راستباز بھی شریروں کے بد ارادہ سے بچ نہ سکتا۔ درحقیقت راستباز کا اس وقت نشان ظاہر ہوتا ہے جبکہ اس پر کوئی مصیبت آتی ہے۔ اور اس کا مؤید ہونا اس وقت لوگوں پر کھلتا ہے کہ جب کہ اس کی آبرو یا جان لینے کے لئے منصوبے باندھے جاتے ہیں۔ راستباز پر خدا تعالیٰ اس لئے مصیبت نہیں بھیجتا کہ تا اس کو ہلاک کرے بلکہ اس لئے بھیجتا ہے کہ تا اپنی قدرتیں اس کی تائید