تصویر اتاری گئی۔ پھر میں کھانا کھانے بازار گیا اور بعد کھانا کھانے کے محمد یوسف مجھے کوٹھی پر لے گیا۔ اسی بازار میں دوکان تھی جہاں یوسف تھا۔ دام کھانے کا یوسف نے دیا تھا۔ جب کوٹھی گیا وہاں سے بیاس پر مجھے بھیجا گیا۔ بیاس جانے سے پہلے مجھے ہسپتال میں بھیجا گیا تھا اور وہاں سے پرچہ ؔ جات سٹیشن پر لانے کے واسطے اکیلا بھیجا گیا۔ عبدالرحیم وہاں تھا۔ اس نے کہا کہ تو سچ سچ بتلادے جس بات کے واسطے آیا ہے مجھ کو معلوم ہوگیا ہے۔ ورنہ قید ہو جاوے گا۔ اس کے بعد میری فوٹو لی گئی اور کوٹھی پر گیا اور پھر یوسف نے مجھے ٹکٹ لے دیا اور میں بیاس چلا گیا۔ دو روز کے بعد ڈاکٹر صاحب ۔عبدالرحیم۔ وارث دین۔ بھگت پریم داس اور ایک اور جوان عیسائی وہاں آئے۔ اور وارث دین، عبدالرحیم نے سب کے روبروئے مجھے کہا کہ اب بتلاؤ جس کام کے واسطے تو آیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں عیسائی ہونے کو آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تجھ کو مرزا نے بھیجا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں اس نے مجھے کچھ نہیں کہا ہے۔ عبدالرحیم میرے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے مجھے کہا کہ تو یہ بات کہہ کہ مرزا غلام احمد نے مجھے بھیجا ہے کہ ڈاکٹر کلارک کو پتھر سے مار دے۔ مجھے تصویر دکھلائی اور کہا کہ جہاں جاؤ گے پکڑے جاؤ گے ورنہ یہ بات کہہ دو۔ میں نے اس کے کہنے کے بموجب ویسا ہی کہہ دیا۔ تب ڈاکٹر صاحب نے اور دوسروں نے کہا کہ ہم کو ایسا تحریر کردو میں نے تحریر کر دیا۔ اور لکھا ’’نقصان کر‘‘ تو مجھے عبدالرحیم پس ؔ اس صورت میں اس حدیث سے صاف طور پر یہ اشارہ نکلتا ہے کہ مسیح موعود مشرق سے پیدا ہوگا۔ کیونکہ جبکہ دجال کا مستقر اور مقام مشرق ہوا تو مسیح جو دجّالی کارروائیوں کو نابود کرنے کے لئے آئے گا ضرور ہے کہ وہ بھی مشرق میں ظہور کرے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ ہمارا ملک ہند خاص کر پنجاب کا حصہ مکہ معظمہ سے بجانب مشرق واقعہ ہے۔ اور عجب تر یہ کہ دمشقی حدیث میں بھی جو مسلم میں ہے منارہ مشرقی کا ذکر کر کے مسیح موعود کے ظہور کے لئے مشرق کی طرف ہی اشارہ کیا گیا ہے۔ ایسا ہی احادیث میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ مہدی موعود ایسے قصبہ کا رہنے