نے کہا کہ لفظ ’’مار ڈال‘‘ کا بھی لکھ دو۔ کان میں یہ بات کہی تھی۔ میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ وقت تحریر اقبال وہ میرے پہلو بہ پہلو بیٹھا ہوا تھا۔ دو دفعہ اقبال لکھا تھا۔ بار اوّل لفظ صرف نقصان لکھا تھا۔ دوسری دفعہ جب لکھنے لگا تو بموجب اس کے کہنے کے مار ڈال کا لفظ بھی لکھ دیا۔ پھر جب دستخط کرتا تھا۔ پوسٹماسٹر وغیرہ کو انہوں نے بلایا انہوں نے مجھؔ سے پوچھا۔ مارے ڈر کے میں نے کہا کہ ہاں رضامندی سے لکھ دیتا ہوں۔ جب میں نے لکھ دیا تو ڈاکٹر صاحب اور سب نے کہا کہ ٹھیک تو ہمارے دل کی مراد پوری ہوگئی ہے۔ پھر ۶ بجے کی ٹرین میں مجھے امرتسر لے کر ڈاکٹر صاحب وغیرہ آئے اور کوٹھی پر لے گئے۔ وارث دین، عبدالرحیم، بھگت پریم داس ساتھ تھے جس روز اقبال لکھا اس روز سوائے عبدالرحیم کے بھگت پریم داس و وارث دین بھی مجھے کہتے تھے کہ تو اس طرح بیان کر دے مرزا کو پھنسادے۔ تجھ کو کچھ نہیں ہوگا کہ تم کو ڈاکٹر صاحب نے معافی دے دی ہے۔ رات کو مجھے سلطان ونڈ لے گئے۔ خیر الدین ڈاکٹر کے مکان پر مجھے رکھا اور مجھے سکھلاتے رہے کہ تم یہ بات کہہ دینا کہ مرزا نے بھیجا ہے کہ ڈاکٹر کو پتھر سے ماردو۔ میں نے ڈر کے مارے کہا کہ ایسا ہی کہوں گا۔ رات کو میں بڑا بے چین رہا اور بے خواب رہا کہ مجھ سے جھوٹ کہلواتے ہیں۔ صبح مجھے گاڑی میں بٹھلا کر کوٹھی پر لائے اور کہتے رہے کہ تم کو کچھ بھی نہیں کہا جائے گا یہ ہی بیان کرنا۔ ڈپٹی کمشنر کے روبروئے میرے اظہار ہوئے۔ میں نے رلیارام اپنا نام ازخود بتلایا تھا۔
والا ؔ ہوگا جس کا نام کدعہ یا کدیہ ہوگا۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ لفظ کدحہ دراصل قادیان کے لفظ کا مخفف ہے۔ اور بعض روایات میں یہ جو آیا ہے کہ ’’وہ کدعہ یمن کی بستیوں میں سے ایک گاؤں ہے‘‘۔ یہ حدیث کے لفظ نہیں ہیں۔ بلکہ کسی شخص نے اجتہادی طور پر یہ خیال کیا ہے۔ شاید اس نام کے مشابہ کوئی گاؤں یمن میں دیکھ کر کسی کو خیال آگیا ہے کہ شاید وہ یہی گاؤں ہوگا۔ لیکن ظاہر ہے کہ اب ایسا کوئی گاؤں ملک یمن میں آباد نہیں ہے اور نہ اس سرزمین میں کسی نے ایسا دعویٰ کیا۔ مگر قادیاں اس وقت موجود ہے اور نیز مسیحیّت اور مہدویّت کا مدعی بھی موجود۔