آیا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ بچہ ہے یہ ایسا کام کس طرح کر سکتا ہے۔ پھر مجھے بیاس میں بھیج دیا۔ عبدالرحیم نے مجھے دو تین دفعہ یہ بات کہی کہ مجھے پتہ مل گیا ہے کہ تمؔ کس کام کے واسطے آئے ہو۔ میں نے کہا کہ میں صرف عیسائی ہونے آیا ہوں اور کسی کام کے واسطے نہیں آیا۔ پھر میں بیاس چلا گیا۔ وہاں عبدالرحیم دو روز کے بعد آیا۔ چار بجے دن کے وقت آیا تھا۔ مجھ سے ملا۔ ہسپتال میں جہاں میں پڑھ رہا تھا۔ مجھے کہا کہ بتلاؤ تم کس طرح آئے ہو کہ ہم کو پتہ لگ گیا ہے۔ سچ بتلاؤ ورنہ کپتان صاحب پولیس کے حوالہ کر دیں گے۔ میں نے کہا کہ عیسائی ہونے آیا ہوں اور کوئی بات نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ تم خون کرنے آئے ہو۔ مگر یہ نہیں کہا تھا کہ کس کو مارنے کے واسطے۔ پھر وہ چلا گیا۔ دوسرے تیسرے روز ڈاکٹر صاحب معہ یوسف خان اور ایک اور بوڑھا سا آدمی کے آئے۔ اور میرا فوٹو ڈاکٹر صاحب نے اتارا اور امرتسر چلے آئے۔ اس وقت اور نوکروں کی بھی تصویریں لیں۔ اس وقت تک کوئی ذکر ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے نہیں کیا۔ اس کے بعد دو روز گذر کر تار آئی کہ ڈاکٹر صاحب مجھے امرتسر بلاتے ہیں۔ ایک سانپ مارا۔ بھگت پریم داس نے مارا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ یہ سانپ مرا ہوا ساتھ لے جاؤ صاحب کو دکھلانا۔ اسٹیشن پر سے محمد یوسف مجھے کوٹھی پر لے گیا اور وہاں میرا فوٹو لیا گیا۔ خراب نکلا۔ پھر مجھے ڈاکٹر صاحب نے محمد یوسف کے ہمراہ بازار میں بھیجا اور وہاں میری علاوہ ؔ ان سب امور کے ایک عظیم الشان علامت مسیح موعود کی احادیث صحیحہ میں یہ لکھی گئی ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جبکہ صلیبی مذہب زمین پر بڑے جوش سے پھیلا ہوا ہوگا۔ جیسا کہ حدیث یکسر الصلیب جو صحیح بخاری میں ہے اسی پر دلالت کرتی ہے۔ سو ایسے وقت میں اور ایسے زمانہ میں یہ عاجز آیا ہے۔ اور دوسری علامت اشارات احادیث سے مسیح موعود کے لئے یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ ممالک مشرقیہ میں مبعوث ہوگا۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجّال کا پتہ و نشان مشرق ہی بتلایا تھا۔ جیسا کہ حدیث وَأَومَی اِلی المَشرق سے ظاہر ہے