طور پر بیان فرمایا گیا ہے کہ عیسائیوں کا تمام بگاڑ اور گمراہی حضرت عیسیٰ کی وفات کے بعد ہوئی ہے تو اب سوچنا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ کو اب تک زندہ ماننے میں یہ اقرار بھی کرنا پڑتا ہے کہ اب تک عیسائی بھی گمراہ نہیں ہوئے۔ اور یہ ایک ایسا خیال ہے جس سے ایمان جانے کا نہایت خطرہ ہے۔
میں اس وقت محض قوم کی ہمدردی سے اصل بات سے دور جا پڑا اور اصل تذکرہ یہ تھا کہ خداتعالیٰ نے شرِ اعدا سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچا لیا تھا چنانچہ خود حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ میری مثال یونس نبی کی طرح ہے اور یونس کی طرح میں بھی تین دن قبر میں رہوں گا۔ اب ظاہر ہے کہ مسیح جو نبی تھا اس کا قول جھوٹا نہیں ہو سکتا اس نے اپنے قصہ کو یونس کے قصہ سے مشابہ قرار دیا ہے اور چونکہ یونس مچھلی کے پیٹ میں نہیں مرا بلکہ زندہ رہا اور زندہ ہی داخل ہوا تھا اس لئے مشابہت کے تقاضا سے ضروری طور پر ماننا پڑتا ہے کہ مسیح بھی قبر میں نہیں مرا اور نہ مردہ داخل ہوا۔ ورنہ مردہ کو زندہ سے کیا مشابہت؟ غرض اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوںؔ کے شر سے بچالیا۔ ایسا ہی موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس نے فرعون کے بدارادہ سے بچایا۔ ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکّہ کے دشمنوں کے ہاتھ سے بچایا۔ مکّہ والوں نے اتفاق کر کے باہم عہد کرلیا تھا کہ اس شخص کو جو ہر وقت خدا خدا کرتا اور ہمارے بتوں کی اہانت کرتا ہے گرفتار کر کے برے عذاب کے ساتھ اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیں۔ مگر خدا نے اپنی خدائی کا کرشمہ ایسا دکھلایا کہ اول اپنی وحی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی کہ اس وقت اس شہر سے نکل جانا چاہیے کہ دشمن قتل کرنے پر متفق اللفظ ہوگئے ہیں۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک وفادار رفیق کے ساتھ جو صدیق اکبر تھا شہر سے باہر جاکر ایک غار میں چھپ گئے جس کا نام ثور تھا جس کے معنے ہیں ثوران فتنہ(یہ نام پہلے سے پیشگوئی کے طور پر چلا آتا تھا تا اس واقعہ کی طرف اشارہ ہو) غرض جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم