سوال حرف S ہے وہ میں نے لکھا ہے اور جواب حرف R ہے وہ مرزا صاحب کا ہے۔ براہین احمدیہ پر ریویو میں نے تصنیف کیا تھا۔ حرف T صفحہ ۱۷۶ لغایت ۱۸۸۔ اس وقت مرزا صاحب کے حالات اچھے تھے اور میں نے ایسا ہی لکھا تھا اور لکھا تھا کہ مرزا صاحب کے والد نے غدر میں امداد دی تھی۔ کتاب اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ حرف U میں مَیں نے مرزا صاحب کی نسبت کفر کا فتویٰ دیا تھا مرزا صاحب کو میں مسلمان نہیں سمجھتا دہریہ ہے۔ مولوی غلام قادر حنفی مجھ کو فتنہ انگیز نہیں کہتا اور نہ اہل حدیث کو کافر کہتا ہے۔ ہماری تحریرات اور تعلیمات کی وجہ سے بھی لوگوں میں تنازعات ہیں مگر ایسے نہیںؔ ہیں جس سے خون ہوں۔ عدالت میں بھی مقدمات ہوئے ہیں۔ میں نے سلطان روم اگر کوئی شخص ان کے ذلیل اور جھوٹے خیالات سے کراہت کر کے ان کے پنجے سے بچا رہتا ہے تو وہ یوروپین فلاسفروں کے پنجے میں ضرور آجاتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ عوام کو پادریوں کے دجل کا زیادہ خطرہ ہے اور خواص کو فلاسفروں کے دجل کا زیادہ خطرہ۔ اب یقینًاسمجھو کہ یہی دجّال ہے جس کی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ یہ تو ہرگز ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر کسی میں خدائی کی طاقتیں پیدا ہوجائیں۔ تمام قرآن شریف اول سے آخر تک اس کا مخالف ہے۔ پس دجّال کی خدائی سے مراد یہی امور اور اس کے عجائبات ہیں جو آج کل یورپ کے فلاسفروں سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ یہی پیشگوئی کا منشا تھا جو ظہور میں آگیا۔ دجّال کا لفظ بھی بیان کر رہا ہے کہ دجّال میں کوئی حقیقی قدرت نہیں ہوگی صرف دجل ہی دجل ہوگا۔ اب اگر کوئی سعید ہے تو اس بات کو قبول کرے۔ درحقیقت یہ فتنہ جو پادریوں اور یوروپین فلاسفروں سے ظہور میں آیا ہے ایسا فتنہ ہے کہ آدم کے وقت سے آج تک اس کی کوئی ؔ نظیر نہیں پائی جاتی۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اس فتنہ سے لوگوں کے ایمان کو ضرر عظیم پہنچا ہے اور لاکھوں انسانوں کے دلوں سے خداتعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہوگئی ہے۔ بعض دلوں پر تو یہ فتنہ پورا محیط