کی تائید اور ہمدردی میں ایک آرٹیکل لکھا ہے۔ مرزاصاحب نے سلطان روم کے برخلاف لکھا ہے۔
(اس موقعہ پر انگریزی چٹھی میں جو عدالت نے نوٹ دیا ہے وہ ہم ذیل میں درج کر دیتے ہیں)
"I consider sufficient evidence has been recorded regarding the hostility of the witness to the Mirza and there is no necessity to stray further from the main lines of the case"
ترجمہ۔ میں خیال کرتا ہوں کہ کافی شہادت لکھی جا چکی ہے کہ گواہ کو مرزا صاحب سے عداوت ہے۔ اور اب زیادہ ضرورت نہیں کہ مقدمہ کے خاص امر سے ہم دوسری طرف چلے جاویں۔
(بقیہ بیان گواہ) لیکھرام کے قتل کی بابت جو کچھ ہم نے کہا ہے کہ مرزا صاحب کی سازش سے قتل ہوا ہے وہ خود مرزا صاحب کی تحریروں سے اخذ ہے۔ (مکرر کہا کہ) مرزا صاحب اس قتل ؔ کے ذمہ وار ہیں ان کو قاتل نہیں کہتا نہ سازش ہے وہ ذمہ وار ہے نشاندہی کا اپنی تحریروں سے۔
ہوگیا ہے۔ اور بعض پر کچھ نہ کچھ اس کا اثر پڑ گیا ہے۔ اے بندگان خدا سوچو کہ سچ یہی ہے۔
میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو نیچر اور صحیفہ قدرت کے پیرو بننا چاہتے ہوں۔ ان کے لئے خداتعالیٰ نے یہ نہایت عمدہ موقعہ دیا ہے کہ وہ میرے دعوے کو قبول کریں کیونکہ وہ لوگ ان مشکلات میں گرفتار نہیں ہیں جن میں ہمارے دوسرے مخالف گرفتار ہیں کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ اور پھر ساتھ اس کے انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کی نسبت جو پیشگوئی احادیث میں موجود ہے وہ ان متواترات میں سے ہے جن سے انکار کرنا کسی عقلمند کا کام نہیں۔ پس اس صورت میں یہ بات ضروری طور پر انہیں قبول کرنی پڑتی ہے کہ آنے والا مسیح اسی اُمت میںؔ سے ہوگا۔ البتہ یہ سوال کرنا ان کا حق ہے کہ ہم کیونکر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا قبول کریں؟ اور اس پر دلیل کیا ہے کہ