کے مرزا صاحب ذمہ وار ہیں۔ کیونکہ بقول ان کے خدا ان کو ہر بات کی خبر دیتا ہے۔ قاتل کا کیوں پتہ نہیں دیتا۔ سوا اس کے جو صفحہ ۴۴ حرف F پر پیشگوئی ہے اور کوئی پیشگوئی کلارک صاحب کی بابت مرزا صاحب نے نہیں کی۔ سوال۔ میں اہل حدیث ہوں جن کو پہلے غلطی سے وہابی کہتے تھے۔ (اہل حدیث کے برخلاف دیگر مذاہب کے مسلمان یعنی حنفی شیعہ وغیرہ ہیں یا نہ۔ عدالت نے یہ سوال نامنظور کیا۔) خون کا پیاسا ہونے سے میرا مطلب ہے کہ جو لوگ مرزا صاحب کے برخلاف ہوں ان کو ان کے پیرو کاٹ ڈالیں یعنی کاٹنے والے سمجھیں۔ یہ ان کی تعلیمؔ ہے۔ گواہ نے کتاب آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۶۰۱ پیش کر کے بیان کیا کہ صفحہ ۶۰۰ پر جو مثلاً سرسید احمد خاں صاحب بالقابہ کے پاس یہ ذکر کریں کہ یورپینوں نے ایک ایسا مادہ جاذبہ نباتات کا پیدا کیا ہے کہ اس مادہ کو ایک درخت کے مقابل رکھنے سے فی الفور وہ درخت معہ بیخ و بُن اُکھڑ کر اس مادہ کے پاس حرکت کرتا ہوا آجاتا ہے تو کیا ممکن ہے کہ سید صاحب ذرہ بھی انکار کریں۔ لیکن اگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ پیش کیا جائے کہ کئی مرتبہ آپ کے پاس آپ کے اشارے سے بعض درخت حرکت کر کے آگئے تھے تو سید صاحب ضرور اس معجزہ سے انکار کریں گے اور معاً اس فکر میں لگ جائیں گے کہ کسی طرح اس حدیث کو موضوع ٹھہرایا جائے!!! اب سوچنا چاہئے کہ اس زمانہ کی حالت کس حد تک پہنچ گئی ہے کہ خدا اور اس کے رسول کی عظمت اس قدر بھی لوگوں کے دلوں میں نہیں رہی جس قدر ان لوگوں کی عظمت ؔ ہے جن کو کافر کہا جاتا ہے۔ اس تمام تقریر سے ہماری غرض یہ ہے کہ دراصل یہی لوگ دجّال ہیں جن کو پادری یا یوروپین فلاسفر کہا جاتا ہے۔ یہ پادری اور یوروپین فلاسفر دجّال معہود کے دوجبڑے ہیں جن سے وہ ایک اژدہا کی طرح لوگوں کے ایمان کو کھاتا جاتا ہے۔ اول تو احمق اور نادان لوگ پادریوں کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں اور