کا ذکر کیا ہے تو اس ذکر کا کیا موقعہ تھا اور کونسا جھگڑا اس بارے میں یہود اور نصاریٰ کا تھا۔ تمام جھگڑا تو یہی تھا کہ صلیب کی وجہ سے یہود کو بہانہ ہاتھ آگیا تھا کہ نعوذ باللہ یہ شخص یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملعون ہے۔ یعنی اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوا۔ اور جب رفع نہ ہوا تو *** ہونا لازم آیا کیونکہ رفع الی اللہ کی ضد *** ہے۔ اور یہ ایک ایسا انکار تھا جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نبوت کے دعوے میں جھوٹے ٹھہرتے تھے کیونکہ توریت نے فیصلہ کر دیا ہے کہ جو شخص مصلوب ہو اس کا رفع الی اللہ نہیں ہوتا یعنی مرنے کے بعد راستبازوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف اس کی روح اٹھائی نہیں جاتی یعنی ایسا شخص ہرگز نجات نہیں پاتا۔ پس خداتعالیٰ نے چاہا کہ اپنے سچے نبی کے دامن کو اس تہمت سے پاک کرے اس لئے اس نے قرآن میں یہ ذکر کیا 3۱ ۔ اور یہ فرمایا 3۲ ۔تا معلوم ہو کہ یہودی جھوٹے ہیںؔ ۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور سچے نبیوں کی طرح رفع الی اللہ ہوگیا اور یہی وجہ ہے جو اس آیت میں یہ لفظ نہیں فرمائے گئے کہ رافعک الی السّماء بلکہ یہ فرمایا گیا کہ رافعک الیّ تا صریح طور پر ہر ایک کو معلوم ہو کہ یہ رفع روحانی ہے نہ جسمانی کیونکہ خدا کی جناب جس کی طرف راستبازوں کا رفع ہوتا ہے روحانی ہے نہ جسمانی۔ اور خدا کی طرف روح چڑھتے ہیں نہ کہ جسم۔
اور خدا تعالیٰ نے جو اس آیت میں توفّی کو پہلے رکھا اور رفع کو بعد تو اسی واسطے یہ ترتیب اختیار کی کہ تا ہر ایک کو معلوم ہو کہ یہ وہ رفع ہے کہ جو راستبازوں کے لئے موت کے بعد ہوا کرتا ہے۔ ہمیں نہیں چاہیے کہ یہودیوں کی طرح تحریف کر کے یہ کہیں کہ دراصل توفّیکا لفظ بعد میں ہے اور رفع کا لفظ پہلے کیونکہ بغیر کسی محکم اور قطعی دلیل کے محض ظنون اور اوہام کی بنا پر قرآن کو اُلٹ پُلٹ دینا ان لوگوں کا کام ہے جن کی روحیں یہودیوں کی روحوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔ پھر جس حالت میں آیت 3۳ ۔ میں صاف