ملتے ہیں۔ میرے علم میں کوئی خاص جگہ نہیں ہے جہاں وہ مشورے کرتے ہوں۔ اگر میری طاقت ہو اور اسلام کی خاطر روپیہ کی ضرورت ہووے تو میں مرزا صاحب کو امداد دینے کو حاضر ہوں۔ ۱۶؍ اور ۲۲؍ جولائی ۹۷ کے درمیان میں گجرات گیا تھا۔ میں کہہ نہیں سکتا کہ عبدالحمید نے میرے پاس کیا نام ظاہر کیا تھا۔ یوسف خان کو جانتا ہوں۔ میرے سامنے کبھی امامت نہیں کی اور نہ وہ اس قابل ہے کہ امام مقرر ہو۔ (بسوال وکیل ملزم) عبدالحمید کو میں بدمعاش جانتا ہوں۔ اس نے مجھے کہا تھا کہ کچھ شکوک ہیں جو مٹانے کے واسطے قادیاں جاتا ہوں۔ مسجد کے ساتھ ایکؔ غسل خانہ ہے اس میں پیشاب کرتے اور نہاتے ہیں۔ بیٹھنے کی جگہ وہاں نہیں ہے۔ حجرہ کوئی نہیں ہے۔ چھ سال کے عرصہ میں مجھے کبھی مرزا صاحب سے مکان کے اندر خلوت میں ملنے کا موقعہ نہیں ہوا۔ اگر کبھی تین چار سو آدمی جمع ہوں کسی جلسہ کے موقعہ پر تو زنانہ مکان خالی کر دیا جاتا ہے اور سب لوگ وہاں جمع ہوتے ہیں ورنہ کوئی اُس جگہ نہیں جاتا۔ سوائے پانچ وقت کی نمازوں کے کسی سے وہ نہیں ملتے۔ سوال۔ رات کو قادیاں یکّہ ہا کلارک صاحب نے بھیجے تھے۔ جواب۔ تین یکّے صاحب موصوف نے بھیجے تھے۔ سوال۔ گردھاری لعل آریہ کو آپ جانتے ہیں۔ جواب
جمادات اور طرح طرح کے کاموں اور طرح طرح کی ایجادوں اور اجرام فلکی اور نظام شمسی کے متعلق فلسفہ جدیدہ اور کیمسٹری وغیرہ کے ذریعہ سے اس کو حاصل ہو جاتی ہیں اور دور بینوں کے ذریعہ سے آفتاب اور چاند اور ستاروں کی کیفیتوں کو دریافت کرتا ہے اور نہ صرف یہ کہ ان چیزوں کے طبعی نظام پر اس کو علم ہوتا ہے بلکہ وہ خداتعالیٰ کی طرح عملی طور پر کئی امور کر کے بھی دکھا دیتا ہے تو اس صورت میں یہ ضروری امر ہے کہ جو طبعاً پیش آ سکتا ہے کہ اس ناقص العقل کو یہ خیال پیدا ہو کہ یہ تمام امور جو لوگ اپنی نادانی سے دعاؤں کے ساتھ خداتعالیٰ سے مانگا کرتے تھے یہ طریق تو کچھ چیز نہیں ہے بلکہ انسان خود اپنی حکمت عملیوں سے یہ تمام امور پیدا کر سکتا ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہی خدائی کا دعویٰ ہے کہ جو اس زمانہ میں یورپ کے لوگوں کے