کے محمدیوں نے اس کو نہیں بھیجا تھا۔ امیر الدین نے میرے پاس نہیں بھیجا تھا۔ ٹھیک تاریخ یاد نہیں۔ اس نے مجھے کہا تھا کہ میں برہان الدین کا بھتیجا ہوں عیسائی ہوگیا تھا۔ مگر اب میرا عقیدہ پھر گیا ہے مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ میں نے پہلے بھی سنا ہوا تھا کہ ایک بھتیجا برہان الدین کا عیسائی ہے۔ معلوم نہیں کس نے کہا تھا۔ دو یا تین روز میرے مردانہ مکان پر رہا تھا۔ اس نے قادیاں آنے کا ارادہ کیا اور مجھ سے کرایہ مانگا۔ میں نے ۸؍ کے پیسے اس کو دئیے تھے۔ مجھے کوئی اطلاعؔ نہیں آئی تھی کہ وہ پہنچ گیا ہے۔ کسی آئے گئے سے معلوم ہوا تھا کہ پہنچ گیا ہے۔ چوتھے پانچویں روز بعد پھر واپس آیا۔ مگر میں وہاں نہ تھا۔ میرے آدمیوں نے کہا کہ آیا تھا اور جہلم گیا ہے۔ اس کے بعد پھر میں نے اس کو نہیں دیکھا۔ میں عموماً قادیاں میں جاتا ہوں اور بفضل خدا مالدار ہوں 3 ٹیکس ادا کرتا ہوں۔ قادیاں میں مہمان خانہ میں رہتا ہوں جو مرزا صاحب کے مکان سے الگ ہے۔ مرزا صاحب کا خلوت خانہ نہیں ہے۔ مسجد میں عوام الناس سے عام لوگوں سے الٰہی نظام کے کاموں کو اپنے طور پر بھی ادا کرنے لگتا ہے یہ تمام کامیابیاں اس میں وہ متکبرانہ صفات پیدا کر دیتی ہیں جو خاصّہ حضرت کبریائی ہے۔ اور اس غرور کے نشے میں ایسے ایسے طور سے انانیت کا رنگ اس کے نفس رذیل پر چڑھ جاتا ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خدائی کا دعویٰ کہہ سکتے ہیں۔ بالخصوص جبکہ ایسا متکبر فلسفی کسی اپنی عملی حکمت سے مثلاً کسی طوفان ہوا یا طوفان آب کے پیدا کرنے پر قادر ہو جاتا ہے یا مینہؔ برسانے پر قدرت پاتا ہے تو اس قسم کی کامیابیاں تقاضا کرتی ہیں کہ وہ ایک الوہیت کا نشان اپنے اندر ملاحظہ کرے اور حضرت عزت جلّ شانہٗ کو تحقیر کی نظر سے دیکھے۔ پس ایسے انسان کے دل سے وقتاً فوقتاً خداتعالیٰ کی عظمت گھٹتی جاتی ہے اور اس کے دل میں یہ بات جم جاتی ہے کہ شاید اسی طرح سلسلہ علل و معلول کی ناسمجھی کی وجہ سے لوگ خدا کے وجود کے قائل ہوگئے ہیں۔ پس وہ ان منحوس کامیابیوں کی شامت سے جو آب و ہوا اور دریاؤں اور سمندر اور نباتات اور حیوانات اور