دیکھا ہے ذاتی واقفیت نہیں ہے رات کے وقت قادیاں گیا تھا۔ عبدالحمید صبح قادیاں گیا ہے گنگارام کو جانتا ہوں۔ وہ مدرس تھا قادیاں میں اور وہ بھی قادیاں عبدالحمید کے ساتھ گیا ہے۔ گنگارام کو میں جانتا ہوں کہ آریہ ہے۔ بسوال پیروکار۔ غسلخانہ کا ایک دروازہ ہے جو بند ہو جاتا ہے۔ اس کے اوپر ایک منزل ہے۔ صاف میدان اور عام طور پر نماز میں استعمال آتا ہے اور اُس جگہ مرزا صاحب بھی آتے ہیں۔ مسجد میں سے ایک دروازہ مرزا صاحب کے مکان کو جاتا ہے اور ایک سیڑھیوں میں سے۔ دستخط بخط انگریزی۔ سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم
نقلؔ بیان گواہ استغاثہ بصیغہ فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری ۱۳؍ اگست ۹۷ء
مولوی محمد حسین گواہ استغاثہ باقرار صالح
ولد شیخ رحیم بخش ذات شیخ ساکن بٹالہ عمر 3سال بیان کیا کہ میں مرزا صاحب کو بہت دیر سے جانتا ہوں۔ انہوں نے بہت پیشگوئیاں کی ہیں۔ ۲۰۔۲۵ پیشگوئیاں کی ہیں۔ انجام آتھم میں
دلوں میں بھرا ہوا ہے اور وہ تو وہ دوسرے لاکھوں انسان ان کی تعجب انگیز طبعی تحقیقاتوں اور عجیب در عجیب ایجادوں اور حکمت عملیوں سے اس عظمت کی نظر سے ان کو دیکھتے ہیں کہ گویا ایک حصہ خدائی کا ان میں ثابت کر رہے ہیں۔ چنانچہ یہ ہمارا ایک چشم دید ماجرا ہے کہ ایک ہندو جو ایک معزز عہدہ پر تھا اس کے روبروئے کچھ ذکر خداتعالیٰ کی عظمت اور قدرت کا ہوا تو اس نے بڑے غیظ اور غضب میں آکر کہا کہ ’’لوگ جب کُنہِ اشیاء کے سمجھنے سے عاجز آجاتے ہیں تو خدا کی قدرت بیان کرنے لگتے ہیں۔ انگریزوں نے وہ خدائی دکھلائی ہے کہ قدرتوں کا پردہ کھول دیا ہے اور طبعی تحقیقاتیں انسانؔ کو خدائی کا مرتبہ دیتی جاتی ہیں‘‘۔ سو اس ہندو نے جو انگریزوں کو خدا ٹھہرا دیا اس کی یہی وجہ تھی کہ ان کی عجائب صنعتیں اس کے خیال میں ایسی عظیم الشان معلوم ہوئیں جو اس نے خدا کے وجود کو غیر ضروری سمجھا اور میں دیکھتا ہوں کہ یہ اثر مسلمانوں خاص کر نو تعلیم یافتہ لوگوں میں