جانتا ہوں۔ اس کو مرزا صاحب نے قادیاں سے نکال دیا تھا۔ یوسف خان اور محمد سعید اکٹھے یکجا رہتے تھے۔ دونوں قادیاں سے اکٹھے نہیں گئے علیحدہ علیحدہ گئے تھے۔ اندر مکان غسل خانہ کا حال مجھے معلوم نہیں کہ کہاں ہے۔ مسجد کا عام غسل خانہ ہے۔ (بسوال پیروکار) مرزا صاحب کا کوئی حجرہ مسجد میں نہیں ہے۔ (بسوال عدالت) عبدالحمید کی بیعت نہیں ہوئی تھی۔ بیعت کی شرائط اس کو کوئی میں نے نہیں پڑھائی تھیں۔ (حرفK )نورالدین سنایا گیا درست ہے نور الدین دستخط حاکم۔ نقل ؔ بیان گواہ استغاثہ بصیغہ فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر مجسٹریٹ ضلع گورداسپور سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری ۱۳؍ اگست ۹۷ء بیان شیخ رحمت اللہ باقرار صالح ولد شیخ عبدالکریم ذات شیخ ساکن گجرات حال لاہور عمر3 سال بیان کیا کہ میں تجارت کا کام کرتا ہوں۔ مرزا صاحب کا مرید ہوں قریب چھ سال سے۔ تعداد مریدوں کی مجھے معلوم نہیں۔ عبدالحمید کو غالباً ماہ مئی میں بمقام لاہور دیکھا تھا میری دوکان پر آیا تھا۔ میرے پاس گجرات دستخط حاکم 15/8/97 مہر عدالت شائع کیا جو خود ان کے ہاتھوں کے کرتب ہیں۔ پس بلاشبہ ایک طور سے یہ دعویٰ نبوّت ہے کہ کسی اپنی کلام کو پیش کر کے پھر اس کو خدا کی طرف منسوب کرنا۔ ایسا ؔ ہی دعویٰ الوہیت ان کے فلاسفروں کی ان حرکات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ راز آفرینش الٰہی میں ایسے طور سے ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں جس سے تمام الوہیت کے کاموں پر قبضہ کرلیں اور یہ ایک طبعی امر ہے کہ جب انسان خداتعالیٰ کے نظام برّی اور بحری اور ارضی او رسماوی میں دخل دینا چاہے اور طبعی تحقیقاتوں میں پڑ کر اور ہر ایک شئے کی کُنہ تک پہنچ کر نظام عالم کے سلسلہ کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہے تو جس قدر اُس کو اس فلسفیانہ تحقیقات اور تفتیش اور کھوج لگانے اور جانچ اور پڑتال میں کامیابیاں ہوتی ہیں اور