عرضؔ کی انہوں نے کہا کہ ہم اس قدر جلدی بیعت نہیں کرتے اور نہ ایسی بیعت کو ہم پسند کرتے ہیں کہ بیعت کرنیوالے کا حال اچھی طرح معلوم نہ ہووے۔ عبدالحمید دوچار روز رہ کر چلا گیا۔ یاد نہیں کہ کب آیا تھا۔ پھر معلوم نہیں کہ کس عرصہ کے بعد دوبارہ آیا تھا مگر زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا۔ دوسری دفعہ کی بابت یاد نہیں کہ کتنے روز رہا تھا۔ مرزا صاحب عبدالحمید سے نہ سختی اور نہ پیار کرتے تھے۔ ایک دفعہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ اجنبی لوگوں کو زیادہ مت رہنے دیا کرو تا وقتیکہ شرافت کا حال معلوم نہ ہو۔ بنگال میں معلوم نہیں کہ کوئی مرید مرزا صاحب کا ہے یا نہ۔ حیدر آباد میں دو مرید ہیں۔ بمبئی میں ایک شخص۔ کرانچی میں کوئی نہیں۔ کابل میں کوئی نہیں۔ لکھنؤ میں کوئی نہیں۔ دہلی میں ایک ہے۔ پنجاب میں مرید ہیں تعداد یاد نہیں۔ مرزا صاحب کتابیں تصنیف کرتے ہیں۔ بعض ان کے مرید مفت کتابیں لے جاتے ہیں اور بعض قیمت دے جاتے ہیں اور نذر بھی دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں
معنے ہیں جو خود دجل کے لفظ سے ہی معلوم ہو رہے ہیں یعنی یہ کہ جو فروش گندم نما کے طور پر دھوکہ دہی کے پیشہ کو کمال کی حد تک پہنچانا یہی معنے پیشگوئی میں مقصود ہیں جو کوئی معقول پسند ان کے ماننے میں تامّل نہیں کر سکتا اور اسی ؔ دجّالیت کے لحاظ سے حدیثوں میں دو قسم کے صفات دجّال معہود کے بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا اور دوسرے یہ کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ ان دونوں باتوں کو اگر حقیقت پر حمل کیا جائے تو کسی طرح تطبیق ممکن نہیں کیونکہ نبوت کا دعویٰ اس بات کو مستلزم ہے کہ شخص مدعی خداتعالیٰ کا قائل ہو۔ اور خدائی کا دعویٰ اس بات کو چاہتا ہے کہ شخص مدعی آپ ہی خدا بن بیٹھے اور کسی دوسرے خدا کا قائل نہ ہو۔ پس یہ دونوں دعوے ایک شخص سے کیونکر ہو سکتے ہیں۔
پس اصل بات یہ ہے کہ دجال ایک شخص کا نام نہیں ہے۔ لُغت عرب کے