نقلؔ بیان گواہ استغاثہ بصیغہ فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب جرم ۱۰۷ ضابطہ فوج داری بنام مرزا غلام احمد قادیانی
بیان مولوی نور الدین گواہ استغاثہ باقرار صالح۔۔۔۱۳؍ اگست ۹۷ء
ولد غلام رسول ساکن بھیرہ ضلع شاہ پور قوم قریشی عمر3 سال۔ بیان کیا۔
میں مرزا صاحب کا مرید ہوں۔ بہت عرصہ سالہا سال سے۔ مجھے کبھی دائیں ہاتھ کے فرشتے کا لقب نہیں ملا۔ اور نہ خلیفہ کا لقب ملا ہے۔ مجھے سب سے بزرگ نہیں کہا جاتا۔ عبدالحمید ہماری برادری سے نہیں ہے۔ ہم قریشی ہیں اور عبدالحمید گکھڑ ہے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے کوئی خط عبدالحمید کا بیرنگ نہیں آیا۔ میں تین قسم کا خط بیرنگ لیتا ہوں۔ گھر سے آئے ہوئے یا اگر کوئی ٹکٹ لگا کر بھیجے اور بیرنگ اتفاقیہ ہو جائے تو میں اس کا محصول دے دیتا ہوں یا کتابوں کی بلٹیوں والے خط بیرنگ لیتاہوں باقی میں بیرنگ خط واپس کرتا ہوں۔ عبدالحمید سے میں واقف ہوں دو دفعہ قادیاں میں آیا تھا اور مجھ سے کہا تھا کہ مرزا صاحب کی بیعت کرادو۔ میں نے مرزا صاحب سے
دستخط حاکم
15/8/97
مہر عدالت
سو یہ تمام گناہ ہمارے علماء کی گردن پر ہے کہ دجّال کو خدائی کا پورا جامہ پہنا کر اور مسیح کو ایسی طرز پر آسمان سے اتار کر جس کی نظیر تمام سلسلہ معجزات اور ؔ قانون قدرت میں پائی نہیں جاتی محققوں کو نہایت توحش اور حیرانی میں ڈال دیا۔ آخر وہ بے چارے ان دونوں پیشگوئیوں سے منکر ہوگئے۔ حالانکہ یہ دونوں پیشگوئیاں اسلامی تواریخ اور احادیث اور آثار صحابہ میں اس درجہ تواتر پر ہیں کہ یہ تواتر کسی دوسری پیشگوئی میں پایا نہیں جاتا اور کوئی عقلمند اخبار متواترہ سے انکار نہیں کر سکتا۔ پس اگر یہ نافہم علماء ان پیشگوئیوں کے سیدھے اور صحیح معنے کرتے تو یہ فرقہ لائق رحم اس بلاء انکار میں نہ پڑتا۔ اوران عقلمندوں پر ہرگزامید نہ تھی کہ اگر وہ سیدھے اور صاف اور قریب قیاس معنے پاتے تو اس اعلیٰ درجہ کی پیشگوئی کو جس پر اسلام کے تمام فرقوں کا اتفاق ہے بلکہ نصاریٰ کی انجیل بھی اس پر گواہ ہے ردّ کر دیتے۔ کیونکہ دجّال کے یہ سیدھے