کہ مرزا صاحب 3 روپیہ تک انعام دے سکتے ہیں۔ یوسف خان جب تک قادیاں میں رہا ہم سے الگ رہا مگر اس کی خرابی کوئی نہیں دیکھی۔ مرزا صاحب نے عبدالحمید کو کرایہ نہیں دیا تھا حکم دیا تھا۔ کہ نکال ؔ دو نکمے آدمیوں کو وہ نہیں رہنے دیتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے اور یاد ہے میں نے ۲؍ اس کو دئیے تھے۔ مرزا صاحب نے اس کو کچھ نہیں دیا تھا۔ عبدالحمید کو چھاپہ خانہ میں کام کرتے میں نے خود نہیں دیکھا۔ سنا تھا کہ کام کرتا تھا۔ گالیوں کی بابت سنا تھا کہ مرزا صاحب کو گالیاں اس نے دی ہیں۔ میرے روبروئے گالیاں مرزا صاحب کو اس نے نہیں دی تھیں۔ جوبلی کے دن عبدالحمید کی بابت نہیں کہہ سکتا کہ وہاں تھا یا نہیں۔ جوبلی پر برہان الدین آیا تھا اس نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ لڑکا اچھا نہیں ہے تم اس سے خطا کھاؤ گے۔ یعنی تم کو تکلیف دے گا۔ خبر نہیں کس نے عبدالحمید کو کہا تھا کہ چلے جاؤ۔ میں نے نہیں کہا تھا۔ بسوال وکیل ملزم۔ جب پہلی دفعہ عبدالحمید قادیاں آیا
رو سے دجّال اُس گروہ کو کہتے ہیں جو اپنے تئیں امین اور متدیّن ظاہر کرے مگر دراصل نہ امین ہو اور نہ متدیّن ہو بلکہ اس کی ہر ایک بات میں دھوکہ دہی اور فریب دہی ہو۔ سو یہ صفت عیسائیوں کے اس گروہ میں ہے جو پادری کہلاتے ہیں۔ اور وہ گروہ جو ؔ طرح طرح کی کلوں اور صنعتوں اور خدائی کاموں کو اپنے ہاتھ میں لینے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں جو یورپ کے فلاسفر ہیں وہ اس وجہ سے دجال ہیں کہ خدا کے بندوں کو اپنے کاموں سے اور نیز اپنے بلند دعووں سے اس دھوکہ میں ڈالتے ہیں کہ گویا کارخانہ خدائی میں ان کو دخل ہے۔ اور پادریوں کا گروہ اس وجہ سے نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ لوگ اصل آسمانی انجیل کو گم کر کے محرّف اور مغشوش مضمون بنام نہاد ترجمہ انجیل کے دنیا میں پھیلاتے ہیں۔ اور اگر اس اصل انجیل کا مطالبہ کیا جائے جو حضرت عیسیٰ کی تین ۳برس کی الہامی کلام تھی جس کی نسبت وہ بیان کرتے ہیں کہ ’’میں کچھ نہیں کہتا مگر وہی جو خدا نے مجھ کو کہا‘‘۔ تو اس کا کچھ بھی پتہ نہیں بتلا سکتے کہ وہ کتاب کہاں غائب ہوگئی۔ اور یہ ترجمے جو پیش کرتے ہیں تو