تھا اور اسی رفع مسیح سے خدا تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے اسؔ جھگڑے کا فیصلہ کیا جو صدہا برس سے ان کے درمیان چلا آتا تھا یعنی یہ کہ حضرت عیسیٰ مردودوں اور ملعونوں سے نہیں ہیں اور نہ کُفّار میں سے جن کا رفع نہیں ہوتا بلکہ وہ سچے نبی ہیں اور درحقیقت ان کا رفع روحانی ہوا ہے جیسا کہ دوسرے نبیوں کا ہوا۔ یہی جھگڑا تھا اور رفع جسمانی کی نسبت کوئی جھگڑا نہ تھا بلکہ وہ غیر متعلق بات تھی جس پر کذب اور صدق کا مدار نہ تھا۔ بات یہ ہے کہ یہود یہ چاہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب کا الزام دے کر ملعون ٹھہراویں یعنی ایسا شخص جس کا مرنے کے بعد خدا کی طرف روحانی رفع نہیں ہوتا اور نجات سے جو قرب الٰہی پر موقوف ہے بے نصیب رہتا ہے۔ سو خدا نے اس جھگڑے کو یوں فیصلہ کیا کہ یہ گواہی دی کہ وہ صلیبی موت جو روحانی رفع سے مانع ہے حضرت مسیح پر ہرگز وارد نہیں ہوئی اور ان کا وفات کے بعد رفع الی اللہ ہوگیا ہے۔ اور وہ قرب الٰہی پاکر کامل نجات کو پہنچ گیا۔ کیونکہ جس کیفیت کا نام نجات ہے اسی کا دوسرے لفظوں میں نام رفع ہے اسی کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے کہ 3 ۔۱؂ 3۔۲؂ افسوس کہ ہمارے کج فہم علماء پر کہاں تک غباوت اور بلادت وارد ہوگئی ہے کہ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ قرآن نے اگر اس آیت میں کہ 3 ۔۳؂ رفع جسمانی صفحہ ۲۶۲ میں یہ لکھتے ہیں ’’وجب نزولہ فی آخر الزمان بتعلقہ ببدنٍ آخر‘‘ یعنی عیسیٰ نازل تو ہوگا مگر ان معنوں سے کہ دوسرے بدن کے ساتھ اس کا تعلق ہوگا یعنی بطور بروز اس کا نزول ہوگا جیسا کہ صوفیاء کرام کا مذہب ہے۔ پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں ’’رفع عیسٰی علیہ السّلام باتّصَال روحہ عند المفارقۃ عن العالم السفلی بالعالم العلوی‘‘۔ یعنی عیسیٰ کے رفع کے یہ معنی ہیں کہ جب عالم سفلی سے اس کی روح جُدا ہوئی تو عالم بالا سے اس کا اتصال ہوگیا۔ پھر صفحہ ۱۷۸ میں لکھتے ہیں کہ رفع کے یہ معنی ہیں کہ عیسیٰ کی روح اس کے قبض کرنے کے بعد روحوں کے آسمان میں پہنچائی گئی۔ فتدبّر۔ منہ