روبرؔ وئے دریافت کیا کہ تم نے جو بیان کیا درست معلوم نہیں ہوتا۔ اس نے کہا کہ منہ چھوٹا اور بڑی بات ہے۔ صاحب نے معافی دی اور اس نے سچ سچ بتلا دیا کہ ڈاکٹر صاحب کو مارنے کے واسطے آیا ہوں۔ جب میں امرتسر میں قادیاں سے واپس آکر پہنچا تھا اس سے دوسرے یا تیسرے روز امرتسر سے بیاس ڈاکٹر صاحب کے ہمراہ گیا تھا۔ بیاس میں شاید بیٹھنے کے کمرہ میں صاحب نے اور مَیں نے لڑکے سے پوچھا تھا۔ وارث دین۔ پریم داس ایک اور عیسائی موجود تھا۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے اس کو کہا کہ لکھ دو۔ عبدالحمید نے میرے روبروئے لکھا ۶؍ بجے شام سے پہلے لکھا تھا۔ لکھ کر مچھے*اور گواہ حاشیہ بلائے گئے تھے۔ پھر اسی روز ۶؍ بجے کی گاڑی پر سوار ہوکر امرتسر چلے آئے تھے۔ ریل سے اتر کر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس لڑکے کی حفاظت کرو۔ میں پریم داس اور وارث ہمراہ ہوکر لڑکے کو سلطان ونڈلے گئے۔ ڈاکٹر صاحب کوٹھی پر شاید عبدالحمید کو لے گئے تھے یا نہ ہم سیدھا اس کو سلطان ونڈ لے گئے تھے۔ بسوال عدالت۔ جب لڑکا پہلے پہل آیا تو اس کی شکل و شباہت خونی کی معلوم ہوتی تھی۔ بازار سے روٹی لاکر کھائی تھی۔ عبدالرحیم بقلم خود سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم
کرنا چاہا تھا لیکن وہ زمین کی طرف جھک گیا۔ تو کیا اس جگہ بھی یہ کہو گے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ بلعم کو بجسم عنصری ؔ آسمان پر اٹھاوے۔ سو ہر ایک شخص یاد رکھے اور بے ایمانی کی راہ کو اختیار نہ کرے کہ قرآن شریف میں ہر ایک جگہ رفع سے مراد رفع روحانی ہے۔
بعض نادان کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے کہ 33 ۱ اور اس پر خود تراشیدہ قصہ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص ادریس تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے معہ جسم آسمان پر اٹھا لیا تھا۔ لیکن یاد رہے کہ یہ قصہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصے کی طرح ہمارے کم فہم علماء کی غلطی ہے اور اصل حال یہ ہے کہ اس جگہ بھی رفع روحانی ہی مراد ہے۔ تمام مومنوں اور رسولوں اور نبیوں کا مرنے کے بعد رفع روحانی ہوتا ہے اور کافر کا رفع روحانی نہیں ہوتا۔ چنانچہ آیت 3 ۲ کا اسی کی
* یہ لفظ پڑھا نہیں گیا ۱ مریم:۵۸ ۲ الاعراف: