نقلؔ بیان مشمولہ مثل اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور
سرکار دولت مدار بنام مرزا غلام احمد سکنہ قادیاں جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
۱۰؍ اگست ۹۷ء بیان پریم داس باقرار صالح
ولد ہیرا ذات عیسائی ساکن حال امرتسر عمر 3سال بیان کیا کہ اقبال حرف H میرے روبروئے عبدالحمید نے لکھا تھا۔ ایک اور خط بھی اس نے میرے روبروئے مولوی نور الدین صاحب کی طرف لکھا تھا۔ یہ دونوں خط و اقبال بمقام بیاس لکھے گئے تھے۔ خط میں عبدالحمید نے مولوی نور الدین صاحب کو لکھا تھا کہ دین محمدی جھوٹا ہے اور دین عیسوی سچا ہے۔ میں عیسائی ہونے لگا ہوں۔ میں اس وقت بیاس میں ہوں۔ اگر اب مجھے سمجھانا چاہتے ہیں تو آکر سمجھا دیویں۔ اور مجھ سے ٹکٹ کے واسطے پیسے مانگے۔ میں نے کہا تھا کہ تم مولوی صاحب کو اتنا پیار کرتے ہو تو بیرنگ خط بھیج دو۔ اس نے بھیج دیا۔ پھر جواب کوئی اس خط کا نہ آیا۔ ڈاکٹر صاحب بیاس گئے تھے ان کے روبروئے عبدالحمید نے کہا تھا کہ پہلے وہ برہمن تھا رلارام نام تھا۔ پھر مسلمان ہوگیا۔ اب مسلمان ہوں اور عبدالحمید نام ہے۔
دستخط حاکم
10/8/97
مہر عدالت
طرف اشارہ ہے۔ اور اگر حضرت ادریس معہ جسم عنصری آسمان پر گئے ہوتے تو بموجب نص صریح آیت 3 ۱ جیسا کہ حضرت مسیح کا آسمانوں پر سکونت اختیار کرلینا ممتنع تھا ایسا ہی ان کا بھی آسمان پر ٹھہرنا ممتنع ہے۔ کیونکہ خداتعالیٰ اس آیت میں قطعی فیصلہ دے چکا ہے کہ کوئی شخص آسمان پر زندگی بسر نہیں کر سکتا بلکہ تمام انسانوں کے لئے زندہ رہنے کی جگہ زمین ہے۔
علاوہ اس کے اس آیت کے دوسرے فقرہ میں جو 3 ہے یعنی زمین پر ہی مرو گے صاف فرمایا گیا ہے کہ ہر ایک شخص کی موت زمین پر ہوگی۔ پس اس سے ہمارے مخالفوں کو یہ عقیدہ رکھنا بھی لازم آیا کہ کسی وقت حضرت ادریس بھی آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ حالانکہ دنیا میں یہ کسی کا عقیدہ نہیں اورطرفہ یہ کہ زمین پر حضرت ادریس کی قبر بھی موجود ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ کی قبر موجود ہے۔
بعض علماء ان پختہ ثبوتوں سے تنگ آکر یہ کہتے ہیں کہ فرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرگئے مگر کیا اللہ تعالیٰ قادر نہیں کہ آخری زمانہ میں ان کو پھر زندہ کرے