3تنخواہؔ پاتا ہوں۔ جب مرزا صاحب سے دریافت کیا تو جو کچھ مرزا صاحب نے عبدالحمید کی بابت بیان کیا سچ معلوم ہوا۔ عبدالحمید کا بیان جھوٹ پایا گیا۔ ۲۳؍ جولائی ۹۷ء ؁ کو قادیاں گیا تھا۔ اتوار کو واپس آکر صاحب کو اطلاع دی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو لڑکے پر شبہ ہوا۔ مجھ سے رائے پوچھی۔ میں نے کہا کہ میں رائے نہیں دے سکتا کہ اس کو عیسائی کیا جائے یا نہ۔ پھر لڑکے کو بیاس بھیجا گیا اور میں ڈاکٹر صاحب کے ہمراہ بیاس گیا۔ عبدالحمید سے ڈاکٹر صاحب کے اور اصل جھگڑے اور اس کے فیصلہ سے کچھ لگاؤ نہیں رکھتا اور ؔ خداتعالیٰ کی شان اس سے منزّہ ہے کہ اس بیہودہ اور لغو اور بے تعلق امر کی بحث میں اپنے تئیں ڈالے۔ خدا کی تعلیمیں نجات اور قرب الٰہی کی راہیں بتلاتی ہیں اور ان الزاموں کا نبیوں پر سے ذَبّ اور دفع کرتی ہیں جن کی رو سے ان کے مقرب اور ناجی ہونے پر حرف آتا ہے۔ مگر آسمان پر اس جسم کے ساتھ چڑھ جانا نجات اور قرب الٰہی سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ ورنہ ماننا پڑتا ہے کہ بجز حضرت مسیح کے نعوذ باللہ باقی تمام نبی نجات اور قرب الٰہی سے محروم ہیں اور یہ خیال صریح کفر ہے۔ ہمارے نادان مولوی اتنا بھی نہیں سوچتے کہ یہ تمام جھگڑا رفع اور عدم رفع کا صلیب کے مقدمہ سے شروع ہوا ہے یعنی توریت نے صلیب پر مرنے والوں کو روحانی رفع سے محروم ٹھہرایا ہے۔ پھر اگر توریت کے معنے یہ کئے جائیں کہ صلیب پر مرنے والا رفع جسمانی سے بے نصیب رہتا ہے تو ایسے عدم رفع سے نبیوں اور تمام مومنوں کا کیا حرج ہے۔ ہاں اگر یہ فرض کرلیں کہ نجات کے لئے رفع جسمانی شرط ہے تو نعوذ باللہ ماننا پڑتا ہے کہ بجز مسیح تمام انبیاء نجات سے محروم ہیں۔ اور اگر رفع جسمانی کو نجات اور ایمان اور نیک بختی اور مراتب قرب سے کچھ بھی تعلق نہیں جیسا کہ فی الواقع یہی سچ ہے تو قرآن کے لفظ رفع کو اصل مقصد اور مراد سے پھیر کر اور اس کی شان نزول سے لاپرواہ ہو کر خودبخود رفع جسمانی مراد لے لینا کس قدر گمراہی ہے۔ قرآن شریف میں تو یہ بھی ہے کہ خداتعالیٰ نے بلعم کا رفع