نے ؔ یہ بھی کہا تھا کہ عبدالحمید قلی یعنی ٹوکری اٹھانے کا کام بھی کرتا ہے۔
گواہ کو سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم عبدالرحیم بقلم خود
نقل تتمہ بیان عبدالرحیم باقرار صالح بصیغہ فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
سرکار بذریعہ ڈاکٹرہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
تتمہ بیان عبدالرحیم باقرار صالح
۱۳؍ اگست ۹۷ء ۔ میں پہلے ہندو تھا نائی۔ پھر مسلمان ہوا۔ 3سال مسلمان رہا۔ ۱۱؍ اکتوبر ۹۶ء کو عیسائی ہوا۔ یکم فروری ۹۷ء سے ڈاکٹر صاحب کے ماتحت ہوں ۔
دستخط حاکم
15/8/97
مہر عدالت
کلام میں جو پُرحکمت ہے یہ فضول اور لغو اور بے تعلق جھگڑا شروع ؔ کیا جاتا۔ حالانکہ یہود کا یہ مدعا اور مقصود نہ تھا کہ حضرت مسیح کے رفع جسمانی میں بحثیں کریں اور ایسی بحث سے ان کو کچھ حاصل نہ تھا۔ ان کا تمام مقصد جس کے لئے ان کی قوم میں معاندانہ جوش پیدا ہوا تھا اور اب تک ہے صرف یہ تھا کہ وہ ان کے مصلوب ہونے سے یہ نتیجہ نکالیں کہ ان کا روحانی رفع نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی دانست میں ان کو صلیب دیا۔ اور توریت میں اس بات کی صاف تصریح ہے کہ جو شخص لکڑی پر لٹکایا جائے یعنی صلیب دیا جائے وہ *** ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب اس کو میسر نہیں ہوتا دوسرے لفظوں میں یہ کہ رفع الی اللہ نہیں ہوتا بلکہ اسفل السافلین میں گرایا جاتا ہے۔ پس یہ صلیب کا لفظ اور جو اس کا نتیجہ *** بیان کیا گیا ہے یہی پکار پکار گواہی دے رہا ہے کہ یہود کا تمام شور و غوغا اس وقت یہی تھا کہ صلیب ملنے سے مسیح کا *** ہونا ثابت ہے اور *** ہونے سے عدم رفع ثابت۔ پس جو جھوٹا الزام لگایا گیاتھا خدا نے اسی کا فیصلہ کرنا تھا۔ ہاں اگر مصلوب ہونے کا نتیجہ توریت کے رو سے یہ بیان کیا جاتا کہ جو شخص مصلوب ہو اس کا جسمانی رفع نہیں ہوتا تو ممکن تھا کہ خداتعالیٰ مسیح کو جسمانی طور پر آسمان پر پہنچاتا اور کچھ بھی شبہ نہ رہنے دیتا مگر اب تو یہ خیال سراسر بے تعلق