لڑکے نے بپتسمہ پایا تھا۔ پھر مسلمان ہوگیا۔ اب قریباً آٹھ یوم سے چلا گیا ہے۔ تم اس کو اگر اچھا کھانا اور اچھے کپڑے دو گے تو تمہارے پاس ٹھہر جاوے گا۔ پھر میں نیچے مکان کے اتر آیا۔ تو ایک شخص جوان عمر سابق عیسائی نے جس کا نام سائیداس ہے اور ایک لڑکے نے کہا کہ عبدالحمید مرزا صاحب کو علانیہ گالیاں دے کر چلا گیا ہے۔ مرزا صاحب سو اؔ ن آیات کی شان نزول یہی ہے کہ اس وقت کے یہود اور نصاریٰ حضرت مسیح کو ملعون خیال کرتے تھے اور نہایت ضروری تھا کہ ان شریروں اور احمقوں کی غلطی ظاہر کر کے ان کے جھوٹے الزام سے حضرت مسیح کو بَری کر دیا جائے۔ پس اس ضرورت کے لئے قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا اور جبکہ مصلوب نہ ہوا تو یہ اعتراض سراسر غلط ٹھہرا کہ خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا اور نعوذ باللہ وہ ملعون ہوا بلکہ خداتعالیٰ نے اور مقربوں کی طرح اس کو بھی رفع کی خلعت سے ممتاز کیا اور خداتعالیٰ نے اس فیصلہ میں حضرت عیسیٰ کے ملعون اور غیر مرفوع ہونے کے بارے میں عیسائیوں اور یہودیوں دونوں کو جھوٹا ٹھہرایا۔ اب اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ کی بریّت اور ان کا صادق اور غیر کاذب ہونا جسمانی رفع پر موقوف نہ تھا۔ اور جسمانی رفع کے نہ ہونے سے ان کا کاذب اور ملعون ہونا لازم نہ آتا تھا۔ کیونکہ اگر صادق اور مقرب الٰہی ہونے کے لئے جسمانی رفع کی ضرورت ہے تو بموجب عقیدہ ان نادان علماء کے لازم آتاہے کہ صرف حضرت عیسیٰ ہی خدا کے مقرب ہوں اور باقی تمام نبی جن کا جسمانی رفع جسم عنصری کے ساتھ خداتعالیٰ کی طرف نہیں ہوا وہ نعوذ باللہ قرب الٰہی سے بے نصیب ہوں۔ اور جبکہ جسمانی رفع کچھ شئے نہ تھا اور کسی نبی کے صادق اور مقرب الٰہی ہونے کے لئے جسمانی طور پر اس کا آسمان پر جانا ضروری نہ تھا تو کیونکر ممکن تھا کہ خدا کی