مرزا صاحب کے مکان حجرہ میں جہاں وہ رہتے ہیں چلا گیا۔ اور کسی شخص سے بات چیت نہیں کی ان سے کہا کہ ایک شخص رلارام نام تھا جو مسلمان ہوا عبدالمجیدکے نام سے اب اپنے آپ کو بتلاتا ہے اس کا کیا حال ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ وہ ہندو سے مسلمان نہیں ہوا بلکہ پیدائشی مسلمانؔ ہے جہلم کا رہنے والا ہے۔ برہان الدین کا بھتیجا ہے۔ راولپنڈی میں اس اور ؔ ایک ذرہ خدا کی محبت اس کے دل میں نہ رہے۔ اسی لئے لغت کے رو سے لعین شیطان کا نام ہے۔ پس ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بالکل اس تہمت سے پاک ہیں کہ نعوذ باللہ ان کو ملعون کہا جائے اور رفع الی اللہ سے ان کو بے نصیب سمجھا جائے۔ لیکن عیسائیوں نے اپنی حماقت سے اور یہودیوں نے اپنی شرارت سے ان کو ملعون قرار دیا اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں *** کا لفظ رفع کے لفظ کی نقیض ہے۔ پس اس سے یہ لازم آیا کہ وہ نعوذ باللہ موت کے بعد خدا کی طرف نہیں بلکہ جہنم کی طرف گئے کیونکہ *** یعنی وہ شخص جس کا خداتعالیٰ کی طرف رفع نہ ہوا وہ جہنم کی طرف جاتا ہے۔ یہ متفق علیہ اہل اسلام اور یہود کا عقیدہ ہے اسی لئے نصاریٰ کو یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ حضرت عیسیٰ مرنے کے بعد تین دن تک جہنم میں رہے۔ بہرحال ایک سچے نبی کی ان دونوں قوموں نے بڑی بے ادبی کی۔ اس لئے خداتعالیٰ نے چاہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس الزام سے بَری کرے۔ پس اوّل تو خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ فرمایا کہ مسیح ابن مریم درحقیقت سچا نبی اور وجیہ اور خداتعالیٰ کے مقربوں میں سے تھا۔ اور پھر یہود اور نصاریٰ کے اس وسوسہ کو بھی دور کیا کہ وہ مصلوب ہو کر *** ہوا۔ اور فرمایا 3 3 ۱؂ ۔ اور یہ بھی فرما دیا کہ 3 ۲؂ ۔پس اس طرح پر وہ *** اور عدم رفع کی تہمت جو چھ سو برس سے یہود اور نصاریٰ کی طرف سے ان پر وارد کی گئی تھی اس کو دور فرمایا۔