ہم مرزا صاحب کو چٹھی لکھتے ہیں کہ یہ شخص عیسائی ہونے کو آیا ہے میں نے منع کیا تھا۔ اس لئے کہ جب بپتسمہ ہو جاوے تب چٹھی لکھنا۔ آج میں قادیاں گیا تھا۔ عبدالرحیم اور دو سپاہی اور وارث دین۔ دو سپاہی اور بھی ساتھ گئے۔ (بسوال پیروکار) ایک دفعہ پہلے پہل بھی مرزا صاحب مجھے اُس اوپر والے کمرہ میں لے گئے تھے۔ خیر الدین کی مسجد واقعہ امرتسر میں میں سوگیا تھا۔ اس لئے ٹھہر گیا۔ مجھ سے پوچھا نہ گیا اس لئے میں نے پہلے اقبال نہیں کیا تھا۔ سلطان محمود نے مجھے قرآن پڑھایا تھا۔ چچا برہان الدین مالاکھنڈ نہیں گیا تھا۔ دونوں دفعہ جب میں امرتسر کوٹھی پر ملا تھا ڈاکٹر صاحب خوشی سے ملے تھے دونوں دفعہ از خود گیا تھا۔ بلایا نہ گیا تھا۔ بیاس جاتے وقت طلب کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے جھڑکی برانڈہ میں نکل کر نہیں دی تھی کہ کیوں بے بلائے آئے ہو۔ عبدالحمید (دستخط حاکم)
سنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم
اور ان میں زاہد اور راہب اور ربّانی بھی تھے وہ سب ان کے کفر پر متفق ہوگئے کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ یہ شخص ظاہر نصوص کو چھوڑتا ہے۔ یہ تمام فتنہ صرف اس بات سے پڑا کہ حضرت مسیح نے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے بارے میں یہ تاویل پیش کی تھی کہ اس سے مراد’’ ایسا شخص ہے جو اس کی خُو اور طبیعت پر ہو۔ اور وہ یوحنا یعنی یحییٰ زکریا کا بیٹا ہے‘‘ مگر یہ تاویل یہودیوں کو پسند ؔ نہ آئی۔ اور جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے انہوں نے ان کو ملحد قرار دیا کہ جو نصوص کو ان کے ظاہر سے پھیرتا ہے۔ لیکن چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت سچا نبی تھا اور ان کی تاویل بھی گو بظاہر کیسی ہی بعید از قیاس تھی مگر خداتعالیٰ کے نزدیک درست تھی اس لئے بعض لوگوں کے دلوں میں یہ بھی خیال تھا کہ اگر یہ شخص جھوٹا ہے تو راستبازی کے انوار کیوں اس میں پائے جاتے ہیں اور کیوں سچے رسولوں کی طرح اس سے نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ پس اس خیال کے دور کرنے کے لئے یہودیوں کے مولوی ہروقت