لیتا ہوں۔ میرے چچے نے پڑھایاؔ تھا۔ اور ایک مُلّا نے بھی پڑھایا تھا۔ میں بلا معنے کے قرآن پڑھتا رہا ہوں۔ ۳۱؍ جولائی ۹۷ء کو وعدہ معافی مجھے دیا گیا تھا اس لئے میں نے اقبال لکھ دیا تھا اگر کوئی شخص کسی کو مارنے جائے اور مار دیوے تو مجرم ہے ورنہ نہیں۔ تاریخ تحریر اقبال سے برابر ڈاکٹرصاحب کے پاس میں رہا ہوں۔ تین چار روز ہوئے انارکلی میں مولوی محمد حسین کو دیکھا تھا۔ پہلے اس سے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے کوئی خط مرزا صاحب کو نہیں لکھا۔ بائبل میں لکھا ہے کہ تو خون نہ کر اس لئے میرا ارادہ بدل گیا کہ کیوں ایسے نیک آدمی کو جیسے کہ ڈاکٹر کلارک ہے قتل کروں۔ ہمارے خاندان سے کسی نے کبھی قتل نہیں کیا۔ غازی کا مطلب مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہے۔ بیاس میں بھگت پریم داس نے ایک سانپ سیاہ رنگ کا پکڑا تھا۔ مار کر ڈاکٹر صاحب کے پاس میں لایا تھا۔ دوسرا سانپ جو پکڑا تھا وہ بھاگ گیا تھا۔ یعنی پہلے دن دو سانپ پکڑے گئے تھے ایک مرگیا اور دوسرا بھاگ گیا تھا۔ تیسرے روز ایک اور سانپ پکڑا گیا تھا۔ اس کو بھی مار ڈالا تھا۔ صرف ڈاکٹر صاحب کو دکھلانے کے واسطے سانپ لے جانا چاہا تھا۔ (بسوال عدالت) بھگت پریم داس نے روک دیا تھا۔ (وکیل) قطب الدین کو میں پہلے نہیں جانتا تھا۔ مرزا صاحب نے کوئی خط اس کی طرف نہیں دیا تھا۔ قطبؔ الدین نے کہا تھا کہ تم کوٹھی دیکھ آؤ۔ پتھر میں بتلاؤں گا اٹھا لے جانا اور اسے مار دینا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے کہا تھا کہ
خداؔ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت سے جس کی حقیقت انسانوں پر نہیں کھل سکتی یہود کو اس امتحان میں ڈالا کہ ایلیا نبی جس کا ان کو انتظار تھا آسمان سے نازل نہ ہوا اور حضرت ابن مریم نے مسیح ہونے کا دعویٰ کر دیا تو یہ دعویٰ یہودیوں کو خلاف نصوص صریحہ معلوم ہوا اور انہوں نے کہا کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو پھر نعوذ باللہ توریت باطل ہے اور ممکن نہیں کہ خدا کی کتابیں باطل ہوں۔ پس تمام جڑ انکار کی یہی تھی۔ اسی وجہ سے یہودی حضرت مسیح کے سخت دشمن ہوگئے اور ان کو کافر اور مرتد اور دجّال اور ملحد کہنے لگے اور تمام علماء کا فتویٰ ان کے کفر پر ہوگیا