نقلؔ تحریر مشمولہ مثل فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
مرجوعہ
فیصلہ
نمبر بستہ
نمبر مقدمہ
۹؍ اگست ۷ ۹ء
متدائرہ
از محکمہ
۳۳
سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری
منکہ عبدالحمید ولد سلطان محمود سکنہ جہلم کاہوں حال وارد بیاس۔ جو کہ میں موضع قادیاں میں سے مرزا صاحب غلام احمد قادیاں سے روانہ کیا گیا تھا کہ تم ڈاکٹر کلارک صاحب نقیضان کر دیں یعنی مار ڈالا۔ اور مجھ کو اس کام کے واسطے میں چلا آیا ہوں۔ یہ قادیاں میں زبانی غسل خانہ میں کہی۔ دستخط حاکم۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ۔ یہ پرچہ عبدالحمید گواہ سے لکھوایا گیا۔ دستخط 13/8/97
اسی تدبیر میں لگے ہوئے تھے کہ کسی طرح عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ شخص نعوذ باللہ کاذب اور ملعون ہے آخر ان کو یہ بات سوجھی کہ اگر اس کو صلیب دی جائے تو البتہ ہر ایک پر صاف طور پر ثابت ہو جائے گا کہ یہ شخص نعوذ باللہ *** اور اس رفع سے بے نصیب ہے جو راستبازوں کا خداتعالیٰ کی طرف ہوتا ہے اور اس سے اس کا کاذب ہونا ثابت ہوگا۔ کیونکہ توریت میں یہ لکھا تھا کہ جو شخص صلیب پر کھینچا جائے وہ *** ہے یعنی اس کا خداتعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا۔ سو انہوں نے اپنی دانست میں ایسا ہی کیا یعنی صلیب دیا۔ اور یہ امر نصاریٰ پر بھی مشتبہ ہوگیا اور انہوں نے بھی گمان کیا کہ حضرت مسیح حقیقت میں مصلوبؔ ہوگئے ہیں۔ اور پھر اس اعتقاد سے یہ دوسرا عقیدہ بھی انہیں اختیار کرنا پڑا کہ وہ *** بھی ہیں۔ مگر *** کے چھپانے کے لئے اور اس کا کلنک دور کرنے کے لئے یہ تجویز سوچی گئی کہ ان کو خداتعالیٰ کا بیٹا بنایا جائے۔ ایسا بیٹا جس نے دنیا کے تمام گنہگاروں کی لعنتیں اپنے سر پر اٹھالیں اور بجائے دوسرے ملعونوں کے آپ ملعون بن گیا اور پھر