پہلے کبھی ایسا ارادہ میں نے نہیں کیا اور نہ ؔ کبھی مارنے پر مامور ہوا تھا۔ جب میں مسلمان تھا میں قتل کرنا جرم اور گناہ سمجھتا تھا مگر جب مرزا صاحب نے کہا کہ تم مقبول ہو جاؤ گے تو میرے خیال میں تبدیلی ہوئی اور پکا یقین ہوگیا کہ میں بہشت میں جاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مرزا صاحب سے ملوں میرا اپنا خیال یہ تھا کہ قتل کرنا گناہ ہے۔ گو محمدی مذہب کے رو سے کسی کافر کو مارنا ثواب ہے۔ یہ بات قرآن میں درج ہے۔ میں نے خود پڑھا ہے۔ ترجمہ لکھا ہوا دیکھ کر پڑھ
یہود اور نصاریٰ میں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت اختلاف تھا اور اب بھی ہے وہ اختلاف ان کے رفع روحانی کے بارے میں ہے۔ یہود نے صلیب دئیے جانے سے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ حضرت عیسیٰ کا رفع روحانی نہیں ہوا اور نعوذ باللہ وہ ملعون ہیں۔ کیونکہ ان کے مذہب کے رو سے ہر ایک مومن کا مرنے کے بعد خداتعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے لیکن جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے اس کا خداتعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا یعنی وہ شخص *** ہوتا ہے۔ پس یہودیوں کی یہی حجت تھی کہ حضرت عیسیٰؔ علیہ السلام مصلوب ہوگئے اس لئے ان کا رفع روحانی نہیں ہوا اور وہ *** ہیں اور نالائق عیسائیوں نے بھی تین دن کے لئے حضرت عیسیٰ کو رفع سے محروم سمجھا اور *** ٹھہرایا۔ اب قرآن شریف کا اس ذکر سے مدعا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کے روحانی رفع پر گواہی دے۔ سو اللہ تعالیٰ نے 3 ۱ کہہ کر نفی صلیب کی اور پھر اس کا نتیجہ یہ نکالا کہ 3۲ اور اس طرح پر جھگڑے کا فیصلہ کر دیا۔
اب انصافاًدیکھوکہ اس جگہ رفع جسمانی کا تعلق اور واسطہ کیا ہے۔ یہودیوں میں سے اب تک لاکھوں تک زندہ موجود ہیں۔ ان کے عالموں فاضلوں کو پوچھ لو کہ کیا آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان کا رفع روحانی نہیں ہوا یا یہ کہ ان کا رفع جسمانی نہیں ہوا۔ ایسا ہی یہود یہ کہتے تھے کہ سچا مسیح اس وقت آئے گا کہ جب ایلیا نبی ملاکی کی پیشگوئی کے موافق دوبارہ دنیا میں آجائے گا۔ پھر جبکہ