نقلؔ بیان عدالت فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور
مرجوعہ
فیصلہ
نمبر بستہ
نمبر مقدمہ
۹؍ اگست ۷ ۹ء
زیر تجویز
از محکمہ
۳۳
سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری بنام مرزا غلام احمد قادیانی
بیان مرزا غلام احمد بلا حلف ۱۳؍ اگست ۹۷ء
ہم نے کبھی پیشگوئی نہیں کی کہ ڈاکٹر کلارک صاحب مر جائیں گے۔ ہرگز ہمارا منشا کسی لفظ سے یہ نہ تھا کہ صاحب موصوف مر جاویں گے۔ عبداللہ آتھم کی بابت ہم نے شرطیہ پیشگوئی کی تھی کہ اگر رجوع بحق نہ کرے گا تو مر جاوے گا۔ عبداللہ آتھم صاحب کی درخواست پر پیشگوئی صرف اس کے واسطے کی تھی۔ کل متعلقین مباحثہ کی بابت پیشگوئی نہ تھی۔ لیکھرام کی درخواست پر اس کے واسطے بھی پیشگوئی کی گئی تھی۔ ہم نے کی تھی چنانچہ پوری ہوئی۔
سنایا گیا درست ہے۔ سب بیان درست درج ہوا ہے۔ دستخط حاکم
15/8/97
مہر عدالت
کے سر پر ظہور کرے گا۔ اور یہ پیشگوئی اگرچہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طور پر پائی جاتی ہے۔ مگر احادیث کے رو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عندالعقل ممتنع ہے۔ اگر تواتر کچھ چیز ہے تو کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی پیشگوئیوں میں سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلیں کوئی ایسی پیشگوئیؔ نہیں جو اس درجہ تواتر پر ہو جیسا کہ اس پیشگوئی میں پایا جاتا ہے ۔ جس شخص کو اسلامی تاریخ سے خبر ہے وہ خوب جانتا ہے کہ اسلامی پیشگوئیوں میں سے کوئی ایسی پیشگوئی نہیں جو تواتر کے رو سے اس پیشگوئی سے بڑھ کر ہو۔ یہاں تک کہ علماء نے لکھا ہے کہ جو شخص اس پیشگوئی کا انکار کرے اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ متواترات سے انکار کرنا گویا اسلام کا انکار ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ باوجود اس تواتر کے ہمارے زمانہ فیج اعوج کے علماء نے اس پیشگوئی کے صحیح صحیح معنے سمجھنے میں بڑا دھوکہ کھایا ہے اور بباعث سخت غلط فہمی کے اپنے عقیدہ میں قابل شرم تناقضات جمع کرلئے ہیں۔ یعنی ایک طرف تو قرآن شریف پر ایمان لا کر اور احادیث صحیحہ