نقلؔ بیان گواہ مشمولہ مثل اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور
سرکار بذریعہ ہنری مارٹن کلارک ڈاکٹر مشنری امرتسر بنام مرزا غلام احمد سکنہ قادیاں
مستغیث جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری مستغاث علیہ
بیان گواہ استغاثہ باقرار صالح
عبدالحمید ولد سلطان محمود ساکن جہلم ذات گکھڑ عمر معہ نمبر3۱۷ سال بیان کیا:۔
میں اب متلاشی عیسائی ہوں پہلے محمدی تھا۔ میں عیسائی لوگوں کے پاس گجرات میں گیا تھا چار ماہ ہوئے ہیں۔ اس وقت مرزا صاحب سے میری واقفیت نہ تھی۔ مونگ رسول رلیف ورکس پر جان محمد بابو کے تحت میٹ تھا۔ دو تین ماہ عیسائیوں کے پاس گجرات میں رہا تھا۔ وہاں محمدی لوگوں نے مجھے بدلا لیا تھا۔ اس لئے گجرات میں چلا آیا تھا۔ مرزا صاحب کے بہت مرید گجرات میں ہیں۔ انہوں نے مجھے قادیان میں بھیجا۔ جب میں وہاں گیا میرا چچابرہان الدین اس وقت قادیاں میں نہ تھا۔ مجھے صلاح دی گئی تھی کہ جو شکوک تمہارے ہیں قادیاں جاکر رفع کرلو۔ مجھے مولوی نورالدین
دستخط حاکم
مہر عدالت
کو تسلیم کر کے ان کو یہ ماننا پڑا کہ حضرت عیسیٰ درحقیقت فوت ہوگئے ہیں اور دوسری طرف یہ عقیدہ بھی انہوں نے رکھا کہ کسی زمانہ میں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں نازل ہوں گے اور وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں فوت نہیں ہوئے۔ اور پھر ایک طرف آنحضرت صلی ؔ اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء قرار دیا اور دوسری طرف یہ عقیدہ بھی رکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ایک نبی آنے والا ہے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو کہ نبی ہیں۔ اور ایک طرف یہ عقیدہ رکھا کہ مسیح موعود دجال کے وقت آئے گا اور دجال کا تمام روئے زمین پر بجز حرمین شریفین تسلط ہو جائے گا۔ اور دوسری طرف بموجب حدیث صحیح مرفوع متّصل صحیح بخاری اس بات کو بھی انہیں ماننا پڑا کہ مسیح موعود صلیب کے غلبہ کے وقت آئے گا یعنی اس وقت جبکہ عیسائی مذہب دنیا میں زور کے ساتھ