نقلؔ تتمہ بیان ڈاکٹر کلارک بصیغہ فوجداری اجلاسی کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر مرجوعہ فیصلہ نمبر بستہ نمبر مقدمہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور ۹؍ اگست ۷ ۹ء متدائرہ از محکمہ ۳۳ سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام میرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری تتمہ بیان ڈاکٹر کلارک باقرار صالح۔ ۱۳؍اگست ۹۷ء ؁ ہمارے والد کلارک صاحب نے ہم کو اطلاع دی تھی کہ خبردار رہو مرزا صاحب نقصان پہنچائیں گے۔ کل ہم نے جواب مصلحتًا نہیں دیا تھا۔ ڈاکٹر کلارک سنایا گیا درست ہے دستخط حاکم دستخط حاکم 15/8/97 مہر عدالت اور یا ہندوستان کے قطبوں اور غوثوں کی نسل تھے جن کے بزرگوں کو لاکھوں انسان اعلیٰ درجہ کے ولی اور قطب وقت سمجھتے تھے وہ لوگ اس جماعت میں داخل ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں۔ غرض اللہ تعالیٰ کے فضل اور قدرت نے مولویوں کو ان کے ارادوں سے نامراد رکھ کر ہماری جماعت کو فوق العادت ترقی دی ہے اور دے رہا ہے۔ وہ لوگ جو درحقیقت پارسا طبع اور خداترس اورؔ نوع انسان سے ہمدردی کرنے والے اور دین کی ترقی کے لئے بدل و جان کوشش کرنیوالے اور خداتعالیٰ کی عظمت کو دل میں بٹھانے والے اور عقلمند اور ذی فہم اور اولوالعزم اور خدا اور رسول سے سچی محبت رکھنے والے ہیں وہ اس جماعت میں بکثرت پائے جائیں گے۔ میں دیکھتا ہوں کہ خداوند کریم اس بات کا ارادہ کر رہا ہے کہ اس جماعت کو بڑھاوے اور برکت دے اور زمین کے کناروں تک سعادت مند انسانوں کو کھینچ کر اس میں داخل کرے۔ اس جگہ اس بات کا لکھنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ میرا یہ دعویٰ کہ میں مسیح موعود ہوں ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے ظہور کی طرف مسلمانوں کے تمام فرقوں کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں اور احادیث نبویہ کی متواتر پیشگوئیوں کو پڑھ کر ہر ایک شخص اس بات کا منتظر تھا کہ کب وہ بشارتیں ظہور میں آتی ہیں۔ بہت سے اہل کشف نے خداتعالیٰ سے الہام پاکر خبر دی تھی کہ وہ مسیح موعود چودھویں صدی