جاری کیا ہم نے کوئی نیا استغاثہ ضلع گورداسپور میں نہیں کیا۔ روبروئے صاحب مجسٹریٹ ضلع کے قبل از ثمن بنام ملزم کے جو چٹھی مولوی نور الدین کے نام عبدالمجید نے لکھی تھی ہم نے نہیں دیکھی۔ یوسف خاں سے سنا تھا کہ برہان الدین غازی ہے۔ یوسف برہان الدین کا پرانا دوست ہے۔ برہان الدین کو ہم نے کبھی نہیں دیکھا جو کچھ اس کی بابت ہم نے بیان کیا ہے یوسف خان کی زبانی ہے اور اس سے سنا ہوا ہے ہم کو ذاتی علم نہیں ہے۔ عبدالحمید کی جائداد نقدی وغیرہ کی بابت بھی سنی سنائی بات ہے پادری دیدار سنگھ صاحب سے سنا تھا ہم گکھڑوں سے واقف ہیں ہم کو معلوم نہیں ہے کہ وہ نمک حلال گورنمنٹ کے ہیں یا نہ۔ ۳۱؍ جولائی ۹۷ء سے جو میری نسبت پیشگوئی مرزا صاحب نے کی تھی وہ حرف A جنگ مقدس میں صفحہ ۱۶ پر درج ہے اور فریق کے لفظ میں ہم اپنے آپ کو شاملؔ سمجھتے ہیں۔ اور دوم انجام آتھم کے صفحہ ۴۴ حرفF ہماری نسبت پیشگوئی موت کی، کی ہے پہلی پیشین گوئی میں پندرہ ماہ کی میعاد تھی جو گذر چکی ہے اور دوسری پیشگوئی کی تاریخ
۱۴؍ ستمبر ۹۷ء تک ہے۔ لیکن ایک اور اشتہار میں اس تاریخ کو وسعت دی گئی ہے حرفF ہماری نسبت
میرے دل میں دھنس گیا۔ پس مجھے اس خدائے عزّوجلّ کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے اس مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر کے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا۔ میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفل نہیں ہوگا۔ میرے پر اس کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ بالکل محال ہے کہ میں ان کا شمار کر سکوں۔ اور میرے والد صاحب اسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہوگئے۔ یہ ا ؔ یک پہلا دن تھا جو میں نے بذریعہ خدا کے الہام کے ایسا رحمت کا نشان دیکھا۔ جس کی نسبت میں خیال نہیں کر سکتا کہ میری زندگی میں کبھی منقطع ہو۔ میں نے اس الہام کو ان ہی دنوں میں ایک نگینہ میں کھدوا کر اس کی انگشتری بنائی جو بڑی حفاظت سے ابتک رکھی ہوئی ہے۔ غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گذری۔ ایک طرف ان کا دنیا سے اٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زور شور سے سلسلہ مکالمات الٰہیہ کا مجھ سے شروع ہوا۔ میں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ