خاص طور پر پیشگوئی ہے اور ہمارا نام موٹی قلم سے لکھا ہوا ہے اشتہار حرف O میں عداوت اور دشمنی کی زندگی مرنے کے قریب قریب ہے۔ میری زندگی سے مراد ہے گواہ نے ازخود بیان کیا اشتہار حرف Q ستمبر ۹۴ ؁ کے بہت عرصہ بعد قبل از مرگ مسٹر عبداللہ آتھم ہم نے جاری کیا تھا جب عبداللہ آتھم نہ مرا۔ مرزا صاحب کے برخلاف جہان اٹھ کھڑا ہوا کہ وہ جھوٹا ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ عبداللہ آتھم اس لئے نہیں مرا کہ وہ اندر سے مسلمان ہوگیا تھا جو خوف کا نتیجہ تھا تب مرزا صاحب نے اشتہار جاری کئے کہ اگر وہ خوف زدہ نہیں ہوا اور رجوع بحق نہیں ہوا تھا تو مباہلہ کرے اور قسم اٹھاوے عبداللہ آتھم نے قسم اٹھانے سے انکار کیا کہ مسیحی مذہب میں قسم کھانا منع ہے*۔ تب ہم نے اس اشتہار حرف Q کو جاری کیا تھا کہ مرزا خوک کا گوشت کھا کر ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے کیونکہ اور مسلمان اس کو مسلمان نہیں مانتے تب عبداللہ آتھم کو یہ کہنا اس کے برابر ہوگا۔ وکیل کی جرح شروع ہوئی عبدالحمید کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ اور تین بھائی اس کے ہیںؔ ۔ ہم کو معلوم نہیں کہ عبدالحمید کب قادیاں میں آیا تھا۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ کب تک میرا کون سا عمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الٰہی شامل حال ہوئی۔ صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتاً میرے دل کو خداتعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے روکنے سے رک نہیں سکتی۔ سو یہ اسی کی عنایت ہے۔ میں نے کبھی ریاضات شاقہ بھی نہیں کیں اور نہ زمانہ حال کے بعضؔ صوفیوں کی طرح مجاہدات شدیدہ میں اپنے نفس کو ڈالا اور نہ گوشہ گزینی کے التزام سے کوئی چلہ کشی کی اور نہ خلاف سنت کوئی ایسا عمل رہبانیت کیا جس پر خداتعالیٰ کے *ڈاکٹر کلارک نے معہ اپنے تمام عیسائی گواہوں کے اس مقدمہ میں انجیل اٹھا کر قسم کھائی۔ اب اُسی منہ سے آتھم کا ذکر کیا ہے کہ اس نے کہا قسم کھانی ہمارے مذہب میں منع ہے۔ یہ عجیب بات ہے دکھانے کے دانت اور کھانے کے اور۔ اور ڈاکٹر صاحب نے آپ سخت گوئی کی شکایت کی اور مسلمانوں کے آگے خنزیر کھانے کے لئے پیش کرتے ہیں کیا ایک مسلمان کو کہنا کہ خنزیر کھا یہ سخت لفظ نہیں ہے؟ منہ