اور ہم نے زیادہ یقین اس امر کا کیا تھا کہ اس کے حالات کی تحقیقات مناسب ہے باقی جملہ حالات کو یا تو شکی تصور کیا تھا یا یقین کیا تھا قادیاں سے دریافت کرنے سے مراد پختہ حالات معلوم کرنے کی تھی مرزا صاحب کے برخلاف مقدمہ کرنے کے واسطے نہ تھی۔ ۳۱؍ جولائی ۹۷ء تک ہمارا کوئی ارادہ مقدمہ مرزا صاحب سے کرنے کا نہ تھا دریافت اس واسطے نہ کی تھی کہ مرزا صاحب پر مقدمہ بنایا جاوے گا ۳۱؍ جولائی ۹۷ء سے پہلے ۳۰؍ جولائی ۹۷ء کو ہمیں معلوم ہوگیا تھا اور یقین ہوا تھا کہ عبدالحمید بدمعاش زانی اور لچّا وغیرہ ہے ۔ ۲۵؍ جولائی ۹۷ء کو مرزا صاحب سے عبدالحمید کی بابت حالات کی خبر ہم کو ملی تھی۔ ۳۰؍ جولائی ۹۷ء کو حالات جہلم سے معلوم ہوئے تھے مرزا صاحب کا بیان بغیر زیادہ دریافت کے ہم نے باور نہیں کیا تھا۔ ہم کو تحقیقات سے معلوم ہواؔ تھا کہ عبدالحمید کبھی عیسائی نہیں ہوا تھا۔ قریب تین ماہ سے زیادہ وہ گجرات میں عیسائیوں کے پاس رہا تھا۔ فروری مارچ اور کچھ حصہ ماہ اپریل کا شاید تھا سوائے گجرات کے اور کہیں ہم نے خود ذاتی تحقیقات نہیں کی باقی شخص جنہوں نے تحقیقات کی تھی سب زندہ ہیں۔ عبدالحمید ایک جوان طاقتور ہے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم سے طاقتور ہے یا نہ۔ جب میں اس کو امرتسر لایا تھا صاحب مجسٹریٹ ضلع نے میرا اور اس کا بیان لکھا اور اقبال کی تصدیق کی اور 3 ۱ کی ضمانت کا وارنٹ
ہے۔ مگر یاد رہے کہ حضرت عزت جلّ شانہٗ جب کسی کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو ایک دوست کی طرح ایسے معاملات اس سے کرتا ہے۔ چنانچہ خداتعالیٰ کا ہنسنا بھی جو حدیثوں میں آیا ہے ان ہی معنوں کے لحاظ سے ہے۔
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبتؔ اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے یہ الہام ہوا جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے تو بشریت کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلا ہمیں پیش آئے گا تب اسی وقت یہ دوسرا الہام ہوا اَلَیس اللّٰہ بکافٍ عَبْدہ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے اور اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح
۱ دوہزار روپیہ۔
فیصلہ
۲۳؍ اگست ۹۷ء