شخص بلائے ہوئے آئے تھے ان کے آنے سے پہلے اقبال لکھا ہوا تھا اسی روز رات کی گاڑی میں ہم اس کو اپنے ساتھ لائے اور سلطان ونڈ کے شفاخانہ میں یعنی احاطہ مشن میں رات کو رکھا پہرہ بھی اس پر لگایا تھا کہ مبادا بھاگ نہ جائے اس اقبال کو جب لکھا گیا ہم نے سب سچ سمجھا گویا نہایت ہی سچ سمجھا تھا یہ بالکل ہی ناممکن ہے کہ کسی اور نے اس کو ہمارے پاس بھیجا ہو سوائے مرزا صاحب کے اور نہ یہ ہم نے سمجھا کہ کسی کی ترغیب سے وہ اقبال کر رہا ہے۔ میری رائے پہلے یہ تھی کہ مولوی نور الدین کا کوئی تعلق اس سے نہیں ہے۔ جب عبدالحمید نے مجھ سے بیان کیا تھا۔ جب خط مولوی نور الدین کے نام اس نوجوان نے بھیجا کچھ ہمارا شک ہوا کہ ان کا بھی تعلق ہے گو نور الدین کے تعلق کی بابت اب بھی ہم کو شک ہے۔ لیکن جو بیان مرزا صاحب کی نسبت عبدالحمید نے کیا ہے اس کی بابت ہم کو اب بھی کوئی شک نہیں ہے مطلق نہیں ہے جوبیاؔ ن پہلے لکھنے سے یعنی اقبال سے عبدالحمید نے کیا تھا اس کو ہم نے جھوٹ سمجھا تھا یعنی جو بابت ہندو ہونے وغیرہ کے بیان کیا تھا وہ جھوٹا سمجھا تھا باقی بیانات کی بابت نہ ہم نے اعتبار کیا تھا اور نہ بے اعتباری تھی۔ ہندو سے مسلمان ہونے کا جو اس نے بیان کیا تھا یہ بھی جھوٹ سمجھا ہم نے یقین کیا تھا کہ وہ قادیاں سے آیا ہے۔ ہم نے یقین کیا تھا کہ وہ قلی کا کام کرتا رہا ہے اور ہم نے یقین کیا تھا کہ ایک شخص سنا تھا کہ قادیاں میں ہے
گرمی سخت پڑتی تھی۔ میں آرام کے لئے ایک چوبارہ میں چلا گیا اور ایک نوکر پیر دبانے لگا کہ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہوکر مجھے الہام ہوا وَالسّماءِ وَالطّارق یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضا و قدر کا مبدء ہے اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروبؔ کے بعد نازل ہوگا اور مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پُرسی خداتعالیٰ کی طرف سے ہے اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہوجائے گا‘‘۔ سبحان اللہ کیا شان خداوند عظیم ہے کہ ایک شخص جو اپنی عمر ضائع ہونے پر حسرت کرتا ہوا فوت ہوا ہے اس کی وفات کو عزا پرسی کے طور پر بیان فرماتا ہے۔ اس بات سے اکثر لوگ تعجب کریں گے کہ خداتعالیٰ کی عزاپرسی کیا معنے رکھتی