کوئی کوشش مجھ پر حملہ کرنے کی نہیں کی تھی ۳۱؍ جولائی ۹۷ء ؁ کو اس نے اقبال کیا تھا۔ میں خاص اس کام کے واسطے وہاں اس روز گیا تھا اور اس کو کہا کہ سچ سچ بتلا۔ اس نے اپنے آپ کو دوچار دفعہ رلیارام بھی بتلایا بعد میں اقبال کیا۔ بغیر کسی دباؤ اس نے اقبال کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر مجھے کوئی خطرہ نہ ہووے تو بتلاتا ہوں اور پھر میرے وعدہ پر کہ تمہارا نقصان نہ ہوگا اقبال کیا تھا۔ پانچ آدمی موجود تھے۔ پریم داس۔ وارث دین۔ عبدالرحیم۔ دیال چند اور ایک اور آدمی نام یاد نہیں۔ وارث دین میرے ماتحت نہیں ہے وہ عیسائی نہیں* ہے۔ بیاس میں ہماری کوٹھی کے کھانے والے کمرہ میں یہ گفتگو عبدالحمید سے ہوئی تھی اور اسی وقت اس کی قلم سے اقبال لکھوایا تھا۔ اس کی قلم کا لکھا ہوا بھی کاغذ ہم نے دیا تھا اوّل ایک اور کاغذ بطور مسودہ لکھا تھا۔ پھر اس کاغذ حرف II پر نقل کیا تھا۔ جہاں تک مجھے علم ہے ہم نے یا ہمارے متعلقین نے کوئی لفظ یا حرف اسؔ کو نہیں بتلایا تھا۔ ۴ اور ۶بجے شام کے درمیان کا یہ واقعہ ہے ۵ بجے کے بعد ۶ بجے سے پہلے لکھا گیا تھا۔ تین کس دیگر تھے۔ ایک سب پوسٹماسٹر۔ پوسٹماسٹر و تار بابو بلائے گئے تھے اور ان کو کہا گیا تھا کہ اس نوجوان سے پوچھ لو اور انہوں نے دریافت کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ میں اپنی خوشی سے لکھتا ہوں اور یہ امر سچ ہے۔ یہ تینوں گواہ ہندو ہیں۔ ہم کو معلوم نہیں کہ آریہ ہیں یا نہ۔ چونی لال کو ہم پیش کریں گے۔ ہماری کوٹھی پر تینوں آخر اس حسرت کو ساتھ لے جائے گا۔ جس نے سمجھنا ہو سمجھے۔ میری عمر قریباً چونتیس یا پینتیس برس کی ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔ مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے۔ میں اس وقت لاہور میں تھا جب مجھے یہ خواب آیا تھا۔ تب ؔ میں جلدی سے قادیاں میں پہنچا اور ان کو مرض زحیر میں مبتلا پایا۔ لیکن یہ امید ہرگز نہ تھی کہ وہ دوسرے دن میرے آنے سے فوت ہو جائیں گے کیونکہ مرض کی شدت کم ہوگئی تھی اور وہ بڑے استقلال سے بیٹھے رہتے تھے دوسرے دن شدت دوپہر کے وقت ہم سب عزیز ان کی خدمت میں حاضر تھے کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اس وقت تم ذرہ آرام کرلو کیونکہ جون کا مہینہ تھا اور * یہ بات غلط ہے بلکہ وارث دین عیسائی ہے۔ فیصلہ ۲۳؍ اگست ۹۷ء