سانوں مہتر بیاس سے آیا ہوا تھا اس کے ہمراہ یہی تھا اور ہدایت کی تھی کہ عبدالحمید کو پریم داس کے حوالہ کر دو اور یہ خط دیدو۔ پریم داس کو ہدایت کی تھی کہ دین عیسوی کی تعلیم دو اور اس سے کام لو نازک اندام نہیں ہے۔ جب وہ امرتسر میں رہا تھا اس کی ظاہراً شکل شباہت سے وہ قاتل معلوم ہوتا تھا۔ اب ویسی اس کی شکل شباہت نہیں رہی جب سے اس نے اقبال کرا ہے اسکی رگ ہائے میں ایک قسم کی حرکت معلوم ہوتی تھی اور آشوب والی آنکھیں تھیں جو بعد اقبال نہیں رہی۔ مولوی عبدالرحیم نے بھی یہ تغیر اس میں معلوم کیا تھا جب تک وہ ہسپتال میں رہا اور اس کی حالت حسب مذکورہ بالا ہم دیکھتے تھے جب سے ہمارا وہ شک جڑ پکڑ گیا اور پختہ ہوا۔ جب بیاس بھیجا تھا کسی کو نہیں کہا تھا کہ اپنا بھید نہ دینا اور اس کا دھیان رکھنا امرتسر میں سب کو کہاؔ تھا کہ اس کا حال دریافت کرو کہ کون ہے اور اس کے حالات کیا ہیں۔ یہ اپنے حالات مختلف قسم کے بتلاتا تھا۔ خاص کر عبدالرحیم نے ہم سے کہا تھا کہ پتہ نہیں لگتا کہ کون ہے۔ ۲۲؍ جولائی ۹۷ء سے ۳۱؍ جولائی ۹۷ء تک عبدالحمید بیاس میں رکھا گیا تھا۔ دو تین دفعہ غالباً ہم بیاس گئے مگر خلوت میں اس کو نہیں دیکھا تھا عام طور پر دیکھتے رہے تھے اس نے کبھی
بہت بڑھ گیا تھا۔ اسی خیال سے قریباً چھ ماہ پہلے حضرت والد صاحب نے اس قصبہ کے وسط میں ایک مسجد تعمیر کی کہ جو اس جگہ کی جامع مسجد ہے۔ اور وصیّت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہو تا خدائے عزّوجلّ کا نام میرے کان میں پڑتا رہے کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔ چنانچہ جس دن مسجد کی عمارت بہمہ وجوہ مکمل ؔ ہوگئی اور شاید فرش کی چند اینٹیں باقی تھیں کہ حضرت والد صاحب صرف چند روز بیمار رہ کر مرض پیچش سے فوت ہوگئے اور اس مسجد کے اسی گوشہ میں جہاں انہوں نے کھڑے ہوکر نشان کیا تھا دفن کئے گئے۔ اللّٰھم ارحمہ و ادخلہ الجنّۃ۔ آمین ۔ قریباً اسی ۸۰یا پچاسی ۸۵ برس کی عمر پائی۔
ان کی یہ حسرت کی باتیں کہ میں نے کیوں دنیا کے لئے وقت عزیز کھویا اب تک میرے دل پر دردناک اثر ڈال رہی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو دنیا کا طالب ہوگا