اس نے یہ بھی کہا کہ مولوی نور الدین کو اس سازش کا کچھ علم نہیں ہے اور نہ اس نے کبھی کچھ اس بارے میں کہا تھا۔ پریم داس کی زبانی ہم کو معلوم ہوا کہ اس نوجوان کے پیچھے دو آدمی اور پھرتے تھے اور ہمارا خیال لیکھرام کے قاتل کے نہ پائے جانے پر غور کر کے یہ تھا کہ وہ دو آدمی اس کو بھی مار ڈالیں گے بعد اس کے کہ وہ مجھے قتل کرے۔ اس لئے ہم نے بڑے خرچ و احتیاط سے اس نوجوان لڑکے کی جان کی حفاظت کی۔ ۳۱؍ جولائی ۹۷ء ؁ کو ہم اس کو پھر امرتسر لے گئے اور حکام ضلع کو اطلاع دیا۔ پھر تحقیقات ہوئی جس کا ہم کو حال معلوم نہیں۔ ہم کو اندیشہ ہے کہ مرزا صاحب کی ایماء سے نقض امن ہونے کا احتمال ہے اور ہم کو اندیشہ ہے کہ وہ اور بھی سازشیں کرنا چاہتا ہے۔ جو پیشگوئی مرزا صاحب نے ہماری نسبت کی ہے وہ ہتک آمیز ہے اور ممکن ہے کہ ہماری طرف سے وہ نقض امن کرانا چاہتے ہیں کہ میں خود ان بے عزتی کے الفاظ کو دیکھ کر نقض امن کروں۔ ہم کو اپنی حفاظت کا اکثر انتظام کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ ہم ڈاکٹر ہیں ہم کو اکثر اوقات ہر قسم کے اشخاص سے تعلق پڑتا ہے اور اگر اس قسم کا اندیشہ لاحق حال رہے توشاید نقض امن ہو جائے۔ ہمارؔ ے خیال میں آئندہ کے لئے مصروف پائیں۔ میں نے ملازمت پیشہ لوگوں کی جماعت میں بہت کم ایسے لوگ پائے کہ جو محض خداتعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے اخلاق فاضلہ حلم اور کرم اور عفت اور تواضع اور انکسار اور خاکساری اور ہمدردی مخلوق اور پاک باطنی اور اکل حلال اور صدق مقال اور پرہیزگاری کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں۔ بلکہ بہتوں کو تکبر اور بدچلنی اور لاپروائی دین اور طرح طرح کے اخلاق رذیلہ میں شیطان کے بھائی پایا۔ اور چونکہ خداتعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ ہر ایک قسم اور ہر ایک نوع کے انسانوں کا مجھے تجربہ حاصل ہو اس لئے ہر ایک صحبت میں مجھے رہنا پڑا۔ اور بقول صاحب مثنوی رومی وہ تمام ایام سخت کراہت اور درد کے ساتھ میں نے بسر کئے۔ من بہر جمعیتے نالاں شدم جفت خوش حالاں و بدحالاں شدم