شخص کے واسطے حوران بہشت کا خیال بڑھ کر لقمہ ہے۔ جان جائے تو چلی جائے حوران بہشت تو ملیں گی۔ نیز ہم کو یہ بھی علم ہوا کہ وہ نوجوان ایک نکمے مسلمان خاندان جہلمی سے تھا جن کو مرنے کا ذرا خوف نہیں ہے۔ اور اگر وہ بطور مرید مرزا صاحب کے مرتا تو مرزا صاحب کی عزت تھی۔ اور اگر وہ بطور مسلمان کے مرتا تو شہید کہلاتا اور اگر یونہی مر جاتا تو اس کے چچوں کو جائیداد سے فائدہ تھا۔ ان باتوں کو مدنظر رکھ کر ہم بیاس گئے اور روبروئے گواہان ہم نے اس نوجوان سے گفتگو کی اور میرے وعدہ پر کہ ہم تمہارا بُرا نہیں چاہتے اس لڑکے نے پانچ کس گواہان کے روبروئے اقرار کیا اور خود لکھ کر (حرف H) دیا جو ہمارے روبروئے اس نے لکھا تھا اور پھر روبروئے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر امرتسر کے تصدیق بھی کرا دیا تھا۔ علاوہ اس اقرار نامہ کے اس نوجوان نے ازخود مجھے کہا کہ میں بایماء مرزا صاحب جان بوجھ کر ان کو گالیاں دیکر آیا تھا۔ اور یہ بھی اس نے ہم ؔ کو کہا کہ ریل کا کرایہ بطور مزدوری ٹوکری اٹھانے کے مرزا صاحب نے دیا ہے اور پھر یہ بھی اس نے ہم کو کہا کہ جو خط مولوی نور الدین کو بیاس سے بھیجا تھا اس سے غرض یہ تھی کہ میری سکونت کا اس کو پتہ ملے۔ اس لئے ان کے حکم سے جو عین میری منشاء کے موافق تھا میں نے استعفا دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکری پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جو پورے طور پر صوم اور صلوٰۃ کے پابند ہوں اور جو اُن ناجائز حظوظ سے اپنے تئیں بچا سکیں جو ابتلا کے طور پر ان کو پیش آتے رہتے ہیں۔ میں ہمیشہ ان کے منہ دیکھ کر حیران رہا اور اکثر کو ایسا پایا کہ ان کی تمام دلی خواہشیں مال و متاع تک خواہ حلال کی وجہ سے ہو یا حرام کے ذریعہ سے محدودؔ تھیں۔ اور بہتوں کی دن رات کی کوششیں صرف اسی مختصر زندگی کی دنیوی ترقی کے لئے