کوئی پیشگوئی جو میری نسبت نقصان یا موت وغیرہ کی کی جائے اس کو نقض امن تصور کیا جاوے۔ بیاس پر ایک زندہ سانپ پکڑا گیا تھا تو عبدالحمید نے بڑی منت اور زاری کی تھی کہ ڈاکٹر صاحب نے حکم دیا ہے کہ جب سانپ کوئی پکڑا جائے تو ہمارے پاس لانا۔ حالانکہ ہم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا تھا۔ دستخط حاکم نقل بیان مشمولہ مقدمہ عدالت فوجداری باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور دستخط حاکم 15/8/97 مہر عدالت مرجوعہ فیصلہ نمبر بستہ نمبر مقدمہ ۹؍ اگست ۷ ۹ء زیر تجویز از محکمہ ۳؍۳ سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری تتمہ بیان ڈاکٹر کلارک صاحب باقرار صالح ۱۲؍ اگست ۹۷ء ؁ پیشگوئی جو برخلاف سلطان محمد کے مسلمانوں سے کی گئی تھی اور عبداللہ آتھم کی بابت جو عیسائیوں ہر ؔ کسے از ظن خود شدیارمن وزدرون من بخُست اسرارمن اور جب میں حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا تو بدستور ان ہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہوگیا۔ مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبّر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتابیں سنایا بھی کرتا تھا اور میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔ انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار روپیہ کے قریب خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر ناکامی تھی۔ کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدّت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور ان کا واپس آنا ایک خیال خام تھا۔ اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے۔