شیخ مہر علی کے دھمکی دی گئی کہ اگر وہ بیعت نہ کرے تو عذاب اس پر نازل ہوگا (تسلیم نہیں کیا گیا) پیشگوئیاں مذکورہ بالا (دستی تحریر شدہ) کاغذ نمبر J میں درج ہیں جو عدالت میں داخل کیا گیا ہے۔ لیکھرام کے قتل کے بعد ہم کو مخفی طور پر آگاہ کیا گیا کہ ہم کو خبردار رہنا چاہیے مبادا مرزا صاحب نقصانؔ پہنچائے۔ ایک اشتہار میں مرزا صاحب نے یہ لکھا تھا کہ کچھ حصّہ کفر کا مٹ گیا ہے اور کچھ حصہ جلد مٹنے والا ہے۔ یہ فقرات جو ہیں ان کی بابت میرا خیال ہے کہ جو حصہ کفر کا مٹ گیا ہے وہ لیکھرام کی بابت ہے اور جو باقی ہے وہ میری نسبت ہے اور اس لئے میں نے سرکار میں اطلاع دی تھی۔ اشتہار وغیرہ جو میرے پاس آتے ہیں وہ ہمیشہ قادیان سے آتے ہیں۔ حالانکہ میں نہ چندہ دیتا ہوں اور نہ کوئی تعلق ہے۔ بعد مناظرہ کے ہماری خط و کتابت چند عرصہ تک رہی اور پھر بعد ازیں ہر طرح سے ہم نے خط و کتابت وغیرہ کا مرزا صاحب سے قطع تعلق کر دیا۔ سہ۳ ماہ گذشتہ سے ہم نے کوئی اشتہار وغیرہ مرزا صاحب کی طرف سے وصول نہیں پایا۔ جس سے میرا خیال ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ میری طرف سے وہ غافل ہیں۔ ۱۶؍ جولائی ۹۷ء کو ایک شخص جوان عمر میرے پاس آیا اور اس نے عیسائی ہونے کی درخواست کی۔ اس نے اپنا نام کے دنوں میں ان کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا اور یہ خداتعالیٰ کی رحمت ہے کہ میں نے ان ؔ کے مصائب کے زمانہ سے کچھ بھی حصّہ نہیں لیا اور نہ اپنے دوسرے بزرگوں کی ریاست اور ملک داری سے کچھ حصّہ پایا بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح جن کے ہاتھ میں صرف نام کی شہزادگی بوجہ داؤد کی نسل سے ہونے کی تھی اور ملک داری کے اسباب سب کچھ کھو بیٹھے تھے ایسا ہی میرے لئے بھی بگفتن یہ بات حاصل ہے کہ ایسے رئیسوں اور ملک داروں کی اولاد میں سے ہوں۔ شاید یہ اس لئے ہوا کہ یہ مشابہت بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پوری ہو۔ اگرچہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میرے لئے سر رکھنے کی جگہ نہیں مگر تاہم میں جانتا ہوں کہ وہ تمام صف ہمارے اجداد کی ریاست