عبدالمجید بتلایا اور کہا کہ میں جنم کا برہمن ہوں اور کہ میرا ہندو نام رلیارام ہے اور والد کا نام رام چند ہے اور کھجوری دروازہ بٹالہ کا رہنے والا ہوں 3 سال ۱ ؂ کی عمر میں مرزا نے مجھے مسلمان کیا تھا جس کو سات سال گذرے ہیں وہ ایک ہندو دوست کی ترغیب سے مسلمان ہوا تھا اور وہ دوست بھی اسی وقت مسلمان ہوگیا تھا۔ میرا دوست اروڑہ قوم کا تھا اور کرپاؔ رام اس کا نام تھا اب اس کا نام عبدالعزیز ہے اور بٹالہ میں کپوری دروازہ کے اندر تمباکو فروشی کرتا ہے۔ سات سال کے عرصہ میں مرزا صاحب کے یہاں طالب علم رہا اور قرآن کی تعلیم پاتا رہا۔ حال میں جو مرزا صاحب کے دعاوی کی نسبت الہامات باطل ثابت ہوئے تو اس کو یقین ہوا کہ مرزا صاحب نبی نہیں ہیں اور اس نے خیال کیا کہ مرزا صاحب اچھے آدمی نہیں ہیں اور شرر انگیز ہیں۔ میں سیدھے قادیان سے آیا ہوں۔ اور عام طور پر علانیہ میں نے مرزا صاحب کو گالیاں دی تھیں۔ جب میں وہاں سے چلا تھا میں اپنے ساتھ کچھ نہیں لایا۔ خداوند مسیح کا قول ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ پیچھے چلو میں اور کچھ نہیں چاہتا صرف بپتسمہ لینا چاہتا ہوں اپنی معاش ٹوکری اٹھا کر قلی گری کر کے بسر کروں گا۔ ہم کو کوئی کافی وجہ اس نے نہ بتلائی کہ وہ امرتسر کیوں آیا ہے اور ملک داری کی لپیٹی گئی اور وہ سلسلہ ہمارے وقت میں آکر بالکل ختم ہوگیا اور ایسا ہوا تاکہ خداتعالیٰ نیا سلسلہ قائم کرے جیسا کہ براہین احمدیہ میں اُس سبحانہ کی طرف سے ؔ یہ الہام ہے سُبحان اللّٰہ تبارک و تعالٰی زاد مجدک ینقطع آباء ک و یبدء منک یعنی خدا جو بہت برکتوں والا اور بلند اور پاک ہے اس نے تیری بزرگی کو تیرے خاندان کی نسبت زیادہ کیا۔ اب سے تیرے آبا کا ذکر قطع کیا جائے گا اور خدا تجھ سے شروع کرے گا۔ اور ایسا ہی اس نے مجھے بشارت دی کہ ’’میں تجھے برکت دوں گا اور بہت برکت دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔‘‘ پھر میں پہلے سلسلہ کی طرف عود کر کے لکھتا ہوں کہ بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم