نمبرؔ ۱۱ عبداللہ آتھم صاحب کو ایک ہزار انعام کا وعدہ دیا گیا تھا شرطیہ طور پر (تسلیم کیا گیا)۔ نمبر۱۲ عبداللہ آتھم صاحب کو دو ہزار روپیہ کے انعام کا وعدہ دیا گیا۔ نمبر۱۳ ایضاً تین ہزار ایضاً۔ نمبر۱۴ ایضاً چار ہزار ایضاً۔ نمبر۱۵ انجام آتھم شائع کیا گیا (تسلیم ہوا) نمبر۱۶ انجام آتھم میں مرزا صاحب نے پیشگوئی کی تھی کہ ۹۴ مولوی اور ۶۸ چھاپہ والے اگر ہمارے پر ایمان نہیں لاویں گے تو مر جائیں گے (مرزا صاحب نے اس کو تسلیم نہیں کیا)۔ نمبر۱۷ اس پیشگوئی میں لیکھرام کے مرنے کی بابت وہ لوگوں کو بتلاتے ہیں کہ مباہلہ کریں (تسلیم کیا گیا)۔ نمبر۱۸ گنگابشن کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا) نمبر۱۹ مولوی محمد حسین بٹالوی کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) نمبر۲۰ رائے جندر سنگھ کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا گیا) نمبر۲۱ پیشگوئی بابت مرنے لیکھرام کی۔ (تسلیم کیا گیا) نمبر ۲۲ نسبت سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دئیے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو اس قسم کی مدد کا عندالضرورت وعدہ بھی دیا۔ اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بجلد وے خدمات عمدہ عمدہ چٹھیات خوشنودی مزاج ان کو ملی تھیں۔ چنانچہ سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہردلعزیز تھے۔ اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کے لئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر، کمشنر اُن کے مکان پر آکر ان کی ملاقات کرتے تھے۔ یہ مختصر میرے خاندان کا حال ہے میں ضروری نہیں دیکھتا کہ اس کو بہت طول دوں۔ اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ ؁ء یا ۱۸۴۰ ؁ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے*اور میں ۱۸۵۷ ؁ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا۔ اور ابھی ریش و بردت کا آغاز نہیں تھا۔ میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پا سیر بھی کیا۔ لیکن میری پیدائش *نوٹ:۔ میں توام پیدا ہوا تھا ایک لڑکی جو میرے ساتھ تھی وہ چنددنوں کے بعد فوت ہوگئی تھی۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر خداتعالیٰ نے انثیت کا مادہ مجھ سے بکلی الگ کر دیا۔ منہ