ہم نے پہلے سے یہ تمام پیش گوئی کی ہوئی تھی اور اس کے حوالہ سے الہامی طور پر اشتہار دیا ہوگا) قاتل کبھی نہیں ملے گا۔ یہ امر مرزا صاحب نے کہا تھا* ۔عام مشہور ہے۔ ہمارا قیاس یہ ہے کہ لیکھرام کا قاتل بھی قتل کیا گیا ہے۔ جو کاغذات اس بارے میں ہمارے پاس تھے وہ سرکار میں ہم نے بھیج دئیے تھے۔ اور ایک اور وجہ ہم کو ایذاء پہنچانے کے واسطے یہ تھی کہ جب سے مسٹر عبداللہ آتھم انتقال کر گئے صرف میں ہی اس مباحثہ کے متعلق ایک سرگروہ رہ گیا ہوں۔ اور مرزا صاحب ہر طرح سے ہم کو حقارت کی نظر سے دیکھتا اور ہماری نسبت واہیات طریقہ اختیار کر رکھا ہے اپنی قلم اور زبان کو قابو میں نہیں رکھا ہوا۔ چنانچہ مرزا صاحب نے ایک کتاب انجام آتھم شائع کی جو ہر قسم کی ہزلیات سے پُر ہے اور اس کتاب میں صفحہ ۴۴ پر اس قدر جرأت کی ہے کہ ہمارے حق میں لکھا ہے کہ مقابلہ کے واسطے آؤ۔ اس کتاب پر حرف F لگایا گیا (مرزا صاحب۔ تسلیم کیا کہ واقعی یہ کتاب ہم نے شائع کی تھی۔ ۱۴ ؍ ستمبر ۹۶ء کو شائع کی تھی) مرزا صاحب۔ مجھ کو الہامی طور پر خبر دی گئی تھی کہ دیانند مر جاوے گا اور یہ خبر قبل از وقت دی گئی تھی اور بعض آریہ لوگوں کو علم تھا میں نے بعض کو اطلاع کر دی تھی۔ لیکھرام کے مرنے سے قریب پانچ سال پہلے میں نے اس کے مرنے کی اطلاع دی تھی۔ سر سید احمد خاں کی بابت میں نے پیشگوئی کی تھی کہ اس پر آفت آئے گی۔ احمد بیگ اور اس کی لڑکی کے بارے میں اور داماد کے بارے میں مَیں نے پیشگوئی کی تھی۔ نمبر۹ مولوی محمد حسین بٹالوی کی بابت۰ ۴ یوم کے مرنے یا تکلیف کی بابت کوئی پیش گوئی نہیں کی آئینہ کمالات مشتہر ۹۳ء صفحہ ۶۰۴۔ نمبر۱۰ عبداللہ آتھم کی بابت۔
پھیل گیا تھا۔ غرض ہماری پرانی ریاست خاک میں مل کر آخر پانچ گاؤں ہاتھ میں رہ گئے۔ پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئیسوں کے ہمیشہ بلائے جاتے تھے ۱۸۵۷ ء میں انہوں نے سرکار انگریزی کی خدمت گذاری میں پچاس گھوڑے معہ پچاسؔ
* یہ بالکل جھوٹ ہے ایسا لفظ کبھی میرے منہ سے نہیں نکلا۔ منہ