لگا دی۔ حالات قتل کے عجیب ہیں۔ قاتل نے اپنے آپ کو ہندو ظاہر کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوگیا تھا اور اب پھر ہندو ہونا چاہتا ہوں۔ اس نے اپنا رسوخ اور اعتبار لیکھرام کے ساتھ پیدا کیا اور یہ واقعہ قتل اس کے چند ہفتہ بعد ظہور میں آیا یہ قتل عام طور پر نسبت مرزا غلام احمد کے قریباً منسوب کیا جاتا ہے۔ میں ایک کتاب مصنفہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پیش کرتا ہوں حرف E جس میں وہ مرزا صاحب کو اس قتل کا الزام لگاتے ہیں* (میں نے مرزا صاحب کچھ کچھ کتاب حرف Eکو دیکھا ہے) مرزا صاحب نے ۲۲؍ مارچ ۹۷ ؁ کو ایک بل ضیاء الاسلام پریس قادیان شائع کیا جو اس امر پر بڑا زور دیتا ہے کہ ہم کو خبر تھی کہ لیکھرام ۶؍ مارچ ۹۷ء ؁ کو ۶ بجے شام کے مارا جاوے گا۔ مگر واقعہ کے بعد یہ بل شائع کیا گیا تھا اور کہ یہ امر ہماری پیشگوئی کے مطابقؔ تھا۔(جواب مرزا صاحب سے باغوں کو کاٹ دیا گیا اور بعض مسجدیں جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھرم ؔ سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا۔ اس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی جلایا گیا جس میں سے پانسو نسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا اور آخر سکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ تمام مرد و زن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزین ہوئے۔ تھوڑے عرصہ کے بعد ان ہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہر دی گئی۔ پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ قادیاں میں واپس آئے اورمرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گاؤں واپس ملے کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاستؔ اپنی بنالی تھی۔ سو ہمارے تمام دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آگئے تھے اور لاہور سے لے کر پشاور تک اور دوسری طرف لودھیانہ تک اس کی ملک داری کا سلسلہ *نوٹ:۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد حسین نے ضرور کلارک سے کہا ہو گا کہ لیکھرام کا قاتل یہی شخص ہے لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ منہ