ہمارے برخلاف ہوگئے۔ جب محمد یوسف خاں عیسائی ہوا اس کو مسلمانوں نے پوچھا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی آتھم صاحب کی بابت پوری کرنے آئے ہو۔ یہ بات خلوت میں انہوں نے پوچھیؔ تھی۔ پیشگوئی جو نسبت احمد بیگ کے داماد کے ہوئی وہ پوری نہیں ہوئی۔ * پیشگوئی جو عیسائیوں سے آتھم صاحب کی بابت تھی وہ بھی پوری نہیں ہوئی۔228 نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ مرزا صاحب کی عزت اور آمدنی میں فرق آیا دوکان اس کی بند ہوگئی اور لوگ ٹھٹھا کرنے لگے۔ اب صرف پیشگوئی برخلاف ہندوؤں کے باقی رہی تھی کچھ عرصہ گذرا ہے کہ لیکھرام قتل کیا گیا جس کے مرنے سے عام آگ ملک میں اونچی اور اس قدر چوڑی تھی کہ تین چھکڑے آسانی سے ایک دوسرے کے مقابل اس پر جا سکتے تھے۔ اور ایسا ہوا کہ ایک گروہ سکھوں کا جو رام گڑھیہ کہلاتا تھا اول فریب کی راہ سے اجازت لے کر قادیاں میں داخل ہوا اور پھر قبضہ کرلیا۔ اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی طرح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے اور ان کے مال و متاع سب لوٹی گئی۔ کئی مسجدیں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے اور جہالت اور تعصب *یہ پیشگوئی بھی شرطی تھی جس کا ایک حصہ پورا ہوگیا یعنی احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ہوگیا اور اس کے مرنے پر اس کے عزیزوں نے نہایت درجہ خائف اور ترساں ہوکر شرط کو پورا کیا اور ضرور تھا کہ شرط کے موافق ظہور میں آتا۔ مگر یہ بھی ضرور ہے کہ دلوں کے سخت ہونے پر خدا کے اصل ارادہ کی پیشگوئی کے مطابق تکمیل ہو جائے جیسا کہ آتھم کی پیشگوئی میں شرط بھی پوری ہوئی اور آخر موت کی سزا بھی ملی غرض ساری کی ساری پیش گوئی پوری ہوئی۔ منہ 228 یہ کہنا کہ آتھم کی نسبت پیش گوئی پوری نہیں ہوئی سچائی کا خون کرنا ہے۔ آتھم نے آپ اپنے قول اور فعل سے ثبوت دے دیا کہ وہ پیشگوئی کے اثر سے ڈرتا رہا۔ اس لئے ضرور تھا کہ الہامی شرط سے فائدہ اٹھاتا پھر دوسرا الہام یہ تھا کہ وہ بعد اخفائے شہادت جلد فوت ہو جائے گا۔ سو وہ فوت ہوگیا۔ اب دیکھو کیسی صفائی سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ منہ