عبداللہ آتھم کیؔ نسبت پیشگوئی پوری نہ*ہوئی تو میں نے عام طور پر مرزا صاحب کے جھوٹا ہونے کی بابت مشتہر کیا اور عام جلسہ کئے گئے۔ جس سے مسلمانان نے مرزا صاحب کو سخت نفرت کی نظر سے دیکھا اور ان کی بہت حقارت ہوئی۔ اور مرزا صاحب میرے سخت مخالف ہوگئے۔ ایک شخص مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے ایک اشتہار چھاپا (حرف D )جس میں مرزا صاحب کی نسبت انہوں نے لکھا کہ اس نے آریہ وغیرہ سے بزرگوں کو گالیاں دلوائی ہیں۔ پھر قرآن کا اردو ترجمہ مولوی عماد الدین صاحب نے کیا جس سے مولویوں نے مرزا صاحب کو کہا کہ کیوں مولوی عماد الدین کو ابھارا کہ اس نے ترجمہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں ایک تعداد اشخاص کی عیسائی ہوگئی جن میں سے ایک شخص محمد یوسف خان جو ایک اچھا معزز آدمی ہے اور پرہیزگار دیندار و مجاہد سمجھا جاتا تھا اور سکریٹری و ایلچی228 مباحثہ کا رہا تھا عیسائی ہوگیا۔ دوسرا آدمی میر محمد سعید تھا جو مرزا صاحب کے بہنوئی235 کا خالہ زاد بھائی تھا وہ بھی عیسائی ہوا اور خاص ہمارے ساتھ اس کا تعلق تھا اور جس سے اور بھی مرزا صاحب
کی حکمت اور مصلحت سے لڑائی میں سکھ غالب آئے۔ دادا صاحب مرحوم نے اپنی ریاست کی حفاظت کے لئے بہت تدبیریں کیں مگر جب کہ قضا و قدران کے ارادہ کے موافق نہ تھی اس لئے ناکام رہے اور کوئی تدبیر پیش نہ گئی اور روز بروز سکھ لوگ ہماری ریاست کے دیہات پر قبضہؔ کرتے گئے یہاں تک کہ دادا صاحب مرحوم کے پاس صرف ایک قادیاں رہ گئی اور قادیاں اس وقت ایک قلعہ کی صورت پر قصبہ تھا اور اس کے چار بُرج تھے اور برجوں میں فوج کے آدمی رہتے تھے اور چند توپیں تھیں اور فصیل بائیس فٹ کے قریب
* کیسیؔ بد دیانتی ہے کہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ کیا پیش گوئی میں قطعی طور پر موت کا حکم تھا؟ اور کوئی شرط نہ تھی؟ کس قدر بے انصافی ہے کہ آفتاب پر خاک ڈالتے ہیں۔ منہ
یہ سفید جھوٹ ہے۔
یہ غلط ہے بلکہ وہ بیوی کا خالہ زاد بھائی تھا۔