اندر سے مسلمان ہوگئے تھے۔ مرزا صاحب اپنے آپ کو مسیح موعود کہتے ہیں۔ ان کا مدعا یہ ہے کہ ایک قسم کا خوف عام پیدا ہووے۔ اور مسیح موعود ہونے کے دعوے سے لوگوں کے دلوں میں رعب قائم کرے اورلوگ اس دعوے کو مان لیویں۔ مرزا صاحب نے یہ حصہ بیان کیا (کتاب جنگ مقدس میں جو الہامی فقرات صفحہ ۱۶و۱۷ پر درج ہیں وہ میری طرف سے ہیں۔ اور اشتہار B میں جو پانچ ہزار کا وعدہ ہے وہ بھی میری طرف سے ہے اور کتاب شہادۃ میں صفحہ ۱۸۸ پر جو پیشگوئیوں کا ذکر ہے وہ قریباً میرے الفاظ ہیں) کتاب شہادۃ میں پیشگوئیاں موت کی تین مذاہب کے واسطے کی گئی ہیں۔ ایک احمد بیگ کے داماد کی نسبت مسلماناں سے۔ دوسرے لیکھرام پشاوری کی نسبت ہندوؤں سے اور تیسرے عبداللہ آتھم کی نسبت عیسائیوں سے جس سے مرزا صاحب کی مراد ڈرانے کی تھی۔ میں عبداللہ آتھم کی حفاظت کا انتظام کرتا رہا اور جب
پر کہ اس چند روزہ زندگی میں اپنے خدا اور اس کے احکام سے بکلّی لاپرواہ ہوکر اور خداتعالیٰ سے سارے علاقے توڑ کر دل کھول کر ارتکاب معصیت کرتے ہیںؔ اور شراب کو پانی کی طرح پیتے ہیں اور اس طرح اپنی زندگی کو نہایت پلید اور ناپاک کر کے اور عمر طبعی سے بھی محروم رہ کر اور بعض ہولناک عوارض میں مبتلا ہو کر جلد تر مر جاتے ہیں اور آئندہ نسلوں کے لئے نہایت خبیث نمونہ چھوڑ جاتے ہیں۔
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میرے پردادا صاحب فوت ہوئے تو بجائے ان کے میرے دادا صاحب یعنی مرزا عطا محمد فرزند رشید ان کے گدی نشین*ہوئے۔ ان کے وقت میں خداتعالیٰ
*ہمارا شجرہ نسب اس طرح پر ہے۔ میرا نام غلام احمد ابن مرزاغلام مرتضیٰ صاحب ابن مرزاعطا محمد صاحب ابن مرزاگل محمد صاحب ابن مرزا فیض محمد صاحب ابن مرزا محمد قائم صاحب ابن مرزا محمد اسلم صاحب ابن مرزا محمد دلاور صاحب ابن مرزا الہ دین صاحب ابن مرزا جعفر بیگ صاحب ابن مرزا محمد بیگ صاحب ابن مرزا عبدالباقی صاحب ابن مرزا محمد سلطان صاحب ابن میرزا ہادی بیگ صاحب مورث اعلیٰ۔ منہ