مصدقہ عدالت نقلؔ بیان مشمولہ مثل باجلاس کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور مہر عدالت سرکار دولتمدار قیصرہ ہند بذریعہ ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب بنام میرزا غلام احمد قادیانی مستغیث جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری مستغاث علیہ بیان ہنری مارٹن کلارک باقرار صالح میں پندرہ سال سے ڈاکٹر مشنری ہوں۔ ہماری واقفیت مرزا صاحب سے ۱۸۹۳ ؁ء سے ہے۔ مسٹر عبداللہ آتھم اور ان کے درمیان جب مناظرہ مذہبی ہوا تھا میں اس کا موجد تھا۔ مرزا غلام احمد نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے پیشوا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس سے پہلے کہ مناظرہ ہو ہم نے ایک کتاب پیش کی جو مولوی محمد حسین بٹالوی نے لکھی تھی اور اس میں اہل اسلام کے پیشواؤں نے قرار دیا کہ مرزا صاحب مسلمان نہیں ہیں بلکہ کافر ہیں اور دجّال کا چچا ہیں۔ میں عیسائیوں کی طرف سے پریذیڈنٹ کمیٹی مناظرہ تھا۔ دو مرتبہ عبداللہ آتھم کی جگہ ہم کو مناظرہ میں بیٹھنا پڑا اور مرزا غلام احمد کو سخت زک اٹھانا پڑا۔ مرزا صاحب نے اظہار کیا کہ وہ معجزات دکھلاتے ہیں۔ ہم نے اندھوں، لنگڑوں کو اچھا کرنے کے واسطے کہا جو موجود کئے گئے تھے۔ مگر وہ نہ کر سکے۔ پھر مرزا صاحب نے پیش ؔ گوئی کی کہ عیسائی کے پائے جاتے ہیں تو میں اسلامی سلطنت کے محفوظ رکھنے کے لئے کوشش کرتا کہ ایّام کسل اور نالیاقتی اور بدوضعی ملوک چغتائیہ میں اسی کو تخت دہلی پر بٹھایا جائے۔ اس جگہ اس بات کا لکھنا بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ میرے پردادا صاحب موصوف یعنی میرزا گل محمد نے ہچکی کی بیماری سے جس کے ساتھ اور عوارض بھی تھے وفات پائی تھی۔ بیماری کے غلبہ کے وقت اطبّاء نے اتفاق کر کے کہا کہ اس مرض کے لئے اگر چند روز شراب کو استعمال کرایا جائے تو غالباً اس سے فائدہ ہوگا مگر جرأت نہیں رکھتے تھے کہ ان کی خدمت میں