اور ضمانت نامہ نوشتہ دو ضامنان بقید مبلغ ایک ہزار روپیہ فی ضامن بطور تاوان کے داخل نہ کرایا جاوے۔
آج بتاریخ ۹؍ اگست ۹۷ء ہمارے دستخط اور عدالت کی مہر سے جاری کیا گیا
دستخط ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور
نمبر۴ سمن بنام مستغاث علیہ
حسب دفعہ ۱۵۲۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری
بعدالت کپتان ڈگلس صاحب مجسٹریٹ ضلع
بنام مرزا غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضیٰ ذات مغل ساکن قادیاں مغلاں پر گنہ بٹالہ ضلع گورداسپور
جو کہ حاضر ہونا تمہارابغرض جوابدہی الزام دفعہ ۱۰۷ ضابطہ فوجداری ضرور ہے لہٰذا تم کو اس تحریر کے ذریعہ سے حکم ہوتا ہے کہ بتاریخ ۱۰؍ ماہ اگست ۱۸۹۷ ء اصالتاً یا بذریعہ مختار ذی اختیار یا جیسا ہو موقعہ پر بمقام بٹالہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حاضر ہو۔ اور اس باب میں تاکید جانو۔
دستخط مجسٹریٹ ضلع گورداسپور
اور بارعب آدمی تھے۔ چنانچہ میں نے کئی دفعہ اپنے والد صاحب مرحوم سے سنا ہے کہ اس زمانہ میں ایک دفعہ ایک وزیر سلطنت مغلیہ کا قادیاں میں آیا جو غیاث الدولہ کے نام سے مشہور تھا اور اس نے میرزا گل محمد صاحب کے مدبرانہ طریق اور بیدار مغزی اور ہمت اور اولوالعزمی اور استقلال اور عقل اور فہم اور حمایت اسلام اور جوش نصرت دیں اور تقویٰ اور طہارت اور دربار کے وقار کو دیکھا اور ان کے اس مختصر دربار کو نہایت متین اور عقلمندؔ اور نیک چلن اور بہادر مردوں سے پُر پایا تب وہ چشم پُر آب ہوکر بولا کہ اگر مجھے پہلے خبر ہوتی کہ اس جنگل میں خاندان مغلیہ میں سے ایسا مرد موجود ہے جس میں صفات ضروریہ سلطنت